اے آئی پوری انسانی نسل ختم کر سکتی ،ماہرین کا انتباہ

اے آئی پوری انسانی نسل ختم کر سکتی ،ماہرین کا انتباہ

ہماری زندگیوں سے جوا کھیلا جا رہا ،اے آئی ماہر نے ٹیک صنعت چھوڑ دی ہزار سے زائد ٹیک ملازمین نے اے آئی ترقی کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ کر دیا سپر انٹیلی جنس سے انسانیت کے خاتمے کا 10 فیصد خطرہ ہے :اے آئی ماہرین

سان فرانسسکو (اے ایف پی)مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے خود اے آئی ماہرین کو خوفزدہ کرنا شروع کر دیا۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک میں کام  کرنیوالے 27 سالہ محقق نے یہ کہتے ہوئے صنعت چھوڑ دی کہ دونوں کمپنیاں ایسی اے آئی کی دوڑ میں شامل ہیں جو ایک دن انسانوں سے زیادہ ذہین ہو سکتی ہے ،ہماری زندگیوں سے جوا کھیلا جا رہا ہے ۔ اے آئی تیار کرنیوالے سنجیدگی سے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی اس دہائی کے اختتام تک پوری انسانیت کو ختم کر سکتی ہے ۔ سپر انٹیلی جنس سے مراد وہ نظریاتی مرحلہ ہے جب مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں انسانی ذہانت سے آگے نکل جائیں۔اینتھروپک کے سیفٹی ایگزیکٹو ایون ہوبنگر نے بھی کوکسن کے خدشات کی تائید کرتے کہا کمپنی کے اندر واقعی یہ خدشہ موجود ہے کہ اے آئی تمام انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے ۔ انہوں نے اس خطرے کا امکان آئندہ ایک دہائی میں 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا۔اے آئی کے ماہرین کے مطابق ‘‘ریکَرْسِو سیلف امپروومنٹ’’ یعنی خودکار طور پر اپنی اگلی نسل کے ماڈلز کو ڈیزائن اور تربیت دینے کا مرحلہ اب دور نہیں رہا۔ جولائی کے آخر میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ہزار سے زائد ملازمین، جن میں اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی بھی شامل تھے ، نے امریکی حکومت سے جدید ترین اے آئی نظاموں کی تیاری کی رفتار کم کرنے کیلئے مربوط اقدامات کا مطالبہ کیا۔

 

 

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...