بھکاری مافیا بے لگام ، متعلقہ ادارے خاموش ، شہری پریشان
فیصل آباد(خصوصی رپورٹر)وزارت داخلہ کے احکامات کے باوجود پیشہ ور بھکاری کم نہ ہوسکے ، فیصل آباد میں بھکاری مافیا بے لگام ہوچکا ہے ، ضلعی انتظامیہ اور سوشل ویلفیئر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔
محکمہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کی عدم توجہ کے باعث انسدادِ گداگری مہم غیر مؤثر ہوچکی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف کارروائیاں کرنے کے احکامات دئیے گئے لیکن فیصل آباد میں پیشہ ور بھکاریوں کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے ۔ پیشہ ور بھکاریوں کے گروہ شہر اور گرد و نواح کے علاقوں میں متحرک ہیں۔ شہر کے چوک، چوراہوں اور ٹریفک سگنلز پر پیشہ ور بھکاریوں نے شہریوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے ۔پیشہ ور بھکاریوں کے گروہ مستحق بن کر شہر بھر کے مختلف رہائشی اور کمرشل علاقوں میں بھی بھیک مانگتے ہیں، جس کی وجہ سے اصل ضرورت مند اور مستحقین کی حق تلفی ہورہی ہے ۔ مگر محکمہ سوشل ویلفیئر کی سست روی کے باعث پیشہ ور بھکاریوں کو کھلی چھوٹ مل چکی ہے ۔ محکمہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کے انسدادِ گداگری سکواڈ کا کردار صفر ہے ۔پیشہ ور بھکاریوں کو روکنے کیلئے محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے ۔ انسدادِ گداگری سکواڈ کیلئے سول ڈیفنس کے ملازمین اور اسپیشل ایجوکیشن کی گاڑی کا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ روزانہ گاڑی پر ہزاروں اور ماہانہ لاکھوں روپے کا ڈیزل استعمال کیا جاتا ہے ۔سرکاری وسائل کے استعمال کے باوجود بھکاریوں کی تعداد کم نہیں ہورہی، بھکاریوں کو پکڑ کر جذام گھر یا ری ہیبلی ٹیشن سینٹر میں منتقل نہیں کیا جاتا۔ فیصل آباد میں بیگرز ہوم بھی موجود نہیں ،2016 میں فیصل آباد میں بیگرز ہوم کا منصوبہ اے ڈی پی سکیم میں شامل کیا گیا مگر منظوری نہ ملنے کی وجہ سے اس منصوبے پر کوئی پیشرفت نہ ہوسکی نہ تو فیصل آباد میں پیشہ ور بھکاریوں کے حوالے سے کوئی مؤثر حکمت عملی بنائی جاسکی اور نہ ہی کوئی منصوبہ، جس کی وجہ سے ساری کارروائیاں بے سود ثابت ہورہی ہیں۔ پیشہ ور بھکاریوں کو پکڑ کر ان سے ملنے والے پیسوں کا کیا کیا جاتا ہے یہ بھی کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے ۔ پیشہ ور بھکاری بھیک میں ملنے والے لاکھوں روپے کہاں خرچ کرتے ہیں یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے ۔شہریوں نے حکام بالا سے نوٹس لے کر ہنگامی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔