قصابوں کی من مانی، مہنگا اور ناقص گوشت فروخت

قصابوں کی من مانی، مہنگا اور ناقص گوشت فروخت

پرائس کنٹرول مجسٹریٹ قصابوں کے سامنے بے بس ، جڑانوالہ گرانفروشی میں سر فہرست ،نجی مذبحہ خانوں میں لاغر اور بیمار جانور ذبح کئے جا رہے ، حکام سے نو ٹس کا مطالبہ

فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )ضلع فیصل آباد میں قصاب حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے لگے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے واضح احکامات کے باوجود گرانفروشی اور ناقص گوشت کی فروخت نہ رک سکی جبکہ انتظامی افسران اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس قصابوں کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ضلع بھر میں قصاب ناقص گوشت مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں۔ تحصیل جڑانوالہ میں گرانفروشی اور مضر صحت گوشت کی فروخت سر فہرست ہے جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارروائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

مکوآنہ میں موجود بیشتر قصاب سرکاری سلاٹر ہاؤس کے بجائے نجی مذبحہ خانوں میں لاغر اور بیمار جانور ذبح کر رہے ہیں جن کا مضر صحت گوشت بغیر ویٹرنری ڈاکٹر یا محکمہ لائیو سٹاک کے متعلقہ افسران کی تصدیق کے مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے ۔ مٹن فی کلو 2200 سے 2400 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ گائے اور بھینس کا گوشت بھی نجی مذبحہ خانوں یا گھروں میں ذبح کر کے تقریباً 1200 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے ۔چونکہ جانوروں کو سرکاری سلاٹر ہاؤس میں ذبح نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ویٹرنری ڈاکٹر سے تصدیق کروائی جاتی ہے ، اس لیے خریدار گوشت کے معیار کو جانچنے کے قابل نہیں ہوتے اور مجبوری میں مہنگا گوشت خریدنے پر مجبور ہیں۔دوسری جانب برائلر مرغی کے گوشت کی فروخت میں بھی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل انڈسٹریز کی ہدایات کے برخلاف ایک کلو کے بجائے 900 گرام گوشت فروخت کیا جا رہا ہے ۔ 29 مئی 2023 کو جاری مراسلے کے مطابق 1000 گرام سے کم گوشت فروخت کرنے والے قصاب گرانفروشی کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کے خلاف پرائس کنٹرول ایکٹ کے تحت کارروائی ہونی چاہیے ، تاہم اس پر عملدرآمد نظر نہیں آ رہا۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنرز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سرپرائز انسپکشن کریں اور گرانفروشی و ناقص گوشت فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں