لینڈریکارڈ آن لائن ہونے کے باوجود پٹواری مافیا بے قابو ، بونذرانے ، سائلین کو تنگ کرنا معمول

 لینڈریکارڈ آن لائن ہونے کے باوجود پٹواری مافیا بے قابو ، بونذرانے ، سائلین کو تنگ کرنا معمول

پٹواریوں کی جانب سے مختلف حیلوں بہانوں سے سائلین کو تنگ کیا جاتا ہے ،بعض پٹواریوں نے اپنے ساتھ پرائیویٹ افراد کو رکھ لیا،شکایات پر مؤثر کارروائی نہ ہونے پر سائلین میں تشویش

فیصل آباد (سٹی رپورٹر)زمینوں کے انتقال، فردات کے اجرا، وراثت کی تبدیلی اور دیگر معاملات میں شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے لینڈ ریکارڈ سینٹرز کو آن لائن کرنے کے باوجود پٹواری مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہو سکی۔شہریوں کو مبینہ طور پر بدستور مسائل اور بدعنوانی کا سامنا ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے پٹواریوں کی جانب سے مختلف حیلوں بہانوں سے سائلین کو تنگ کیا جاتا اور نذرانے وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ ادائیگی نہ کرنے والوں کودفاتر کے چکر لگوا کر خوار کیا جاتا ہے ۔ متعدد شکایات سامنے آنے کے باوجود متعلقہ حکام کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی ہے ۔ لینڈ ریکارڈ سینٹرز کا ڈیٹا آن لائن کرنے کا مقصد شہریوں کو روایتی پٹواری نظام سے نجات دلانا اور شفافیت کو یقینی بنانا تھا۔

تاہم عملی طور پر نہ تو بے ضابطگیوں کا خاتمہ ہو سکا اور نہ ہی مبینہ کرپشن رک سکی۔فردات کے حصول، وراثت کی منتقلی اور انتقال جیسے معاملات میں شہریوں کو بدستور مشکلات کا سامنا ہے ۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض پٹواری حضرات نے غیر قانونی طور پر پرائیویٹ افراد کو اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے ، جو مبینہ لین دین اور رشوت ستانی میں ملوث ہوتے ہیں۔ریونیو حکام کو موصول ہونے والی شکایات میں چک نمبر 236 رب سمیت مختلف حلقوں کے پٹواریوں کے خلاف مسائل کی نشاندہی کی گئی، تاہم ان شکایات پر مؤثر کارروائی نہ ہونے پر سائلین میں تشویش پائی جاتی ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے باوجود ان کے کام لٹکائے جاتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں