وارڈنز کو چالان اہداف پر لگا دیا گیا : ہدف مکمل نہ کرنے پر سزائیں

وارڈنز کو چالان اہداف پر لگا دیا گیا : ہدف مکمل نہ کرنے پر سزائیں

شہر بھر کی شاہراہوں پر ناکہ بندی پوائنٹس قائم، شہریوں کے بلا جواز چالان کرنے کا سلسلہ عروج پر،ٹریفک نظام بہترکرنیکی بجائے ہدف کامیاب بنانے پرتوجہ

فیصل آباد(عبدالباسط سے )سٹی ٹریفک پولیس حکام کی جانب سے نظام ٹریفک کو بہتر بنانے کی بجائے فیلڈ فورس کو مبینہ طور پر چالان اہداف کی تکمیل پر لگا دیا گیا جبکہ چالان ہدف مکمل نہ کرنے والے ٹریفک اہلکاروں کو سنگین نوعیت کی محکمانہ سزائیں بھی دی جانے لگیں۔ ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے اپنے چالان ہدف مکمل کرنے کیلئے شہر بھر کی شاہراہوں پر باقاعدہ ناکہ بندی پوائنٹس قائم کرتے ہوئے ہر آنے جانے والے شہریوں کے بلا جواز چالان کرنے کا سلسلہ عروج پر پہنچا دیا گیا جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق فیصل آباد میں نظام ٹریفک کو بہتر بنانے اور شہریوں کو منظم اور محفوظ نظام ٹریفک کی فراہمی یقینی بنانے کی بجائے سٹی ٹریفک پولیس حکام کی جانب سے چالان ہدف کو کامیاب بنانے پر توجہ دی جانے لگی۔ ذرائع کے مطابق ٹریفک وارڈن عثمان طور کی جانب سے صوبائی محتسب کے نام درخواست دو دن سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے ۔ جسکے مطابق درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹریفک حکام کی جانب سے اہلکاروں کو یومیہ درجنوں ٹریفک چالان کرنے کا ہدف دیا جاتا ہے اور ہدف مکمل نہ کرنے پر انہیں سخت محکمانہ کارروائیوں اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

درخواست گزار ٹریفک اہلکار نے پہلے روزنامہ دنیا سمیت مختلف میڈیا ہاؤسز کو مؤقف دیا کہ اسے ٹریفک حکام کی جانب سے مبینہ طور پر چالان ہدف مکمل نہ کرنے پر شدید ذہنی اذیت کا شکار بنایا جاتا ہے ۔ بعد ازاں مبینہ دباؤ میں آنے کے بعد مذکورہ اہلکار اپنے بیان سے منحرف ہوگیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس حکام کی جانب سے وارڈنزکو دیئے گئے چالان ہدف کی وجہ سے شہریوں کا مین شاہراہوں پر آنا محال ہو گیا ہے ۔ قانون کی خلاف ورزی نہ کرنے کے باوجود انہیں روک کر بلا جواز بھاری مالیت کے جرمانے کر دیئے جاتے ہیں۔ جس سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ دوسری جانب چیف ٹریفک آفیسر رانا ناصر جاوید کا کہنا ہے کہ چالان ہدف کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد ہیں اور معاملے کی جامع انکوائری کیلئے تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں ، حقائق سامنے آنے کے بعد اقدامات کئے جائینگے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...