پلنتھ لیول پر عملدرآمد ہونے سے ڈویژن بھر میں بے ہنگم تعمیرات، شہریوں کو اربوں کے نقصان کا خدشہ
سڑکوں کی سطح بلند ہونے سے پرانے گھر کئی فٹ نیچے ،سڑکوں پر نئی تہیں ڈالنے کے بجائے پرانا ملبہ نکالنے کا مؤثر نظام بنایا جائے اور پلنتھ لیول کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے :شہریوں کامطالبہ
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے ) ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن، ایف ڈی اے اور ضلع کونسل کی مبینہ غفلت کے باعث ضلع بھر کے رہائشیوں کو مجموعی طور پر اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے ۔ پلنتھ لیول کے قواعد پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے سے ڈویژن بھر میں بے ہنگم تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ۔بلڈنگ اینڈ زوننگ ریگولیشنز موجود ہونے کے باوجود ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ ڈویژن بھر میں سڑکوں، رہائشی اور تجارتی عمارتوں کی تعمیر کے دوران پلنتھ لیول سے متعلق قواعد و ضوابط نظر انداز کیے جارہے ہیں، حالانکہ خلاف ورزیوں کے خلاف پنجاب ڈویلپمنٹ آف سٹیز ایکٹ 1976ء کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے ۔شہریوں کو اپنے گھروں کی سطح سڑک کے برابر لانے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرنا پڑ رہے ہیں تاکہ بارش کے پانی اور سیوریج کی نکاسی ممکن ہوسکے۔
جبکہ اس صورتحال کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے ۔متعدد سڑکوں کی تعمیر کے دوران پرانی سڑک، بجری اور ملبہ مکمل طور پر نکالنے کے بجائے اسی کے اوپر نئی تہیں ڈال دی جاتی ہیں، جس سے سڑک ہر بار پہلے سے بلند ہوجاتی ہے ۔ پرانے گھروں کے دروازے ، صحن اور فرش سڑکوں سے کئی فٹ نیچے جاچکے ہیں ۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے سڑکوں پر نئی تہیں ڈالنے کے بجائے پرانا ملبہ نکالنے کا مؤثر نظام بنایا جائے اور پلنتھ لیول کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ ساتھ غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments