عدالتی احکامات پر سی بی اے کی قانونی حیثیت ختم:گیپکولیبر یونین

عدالتی احکامات پر سی بی اے کی قانونی حیثیت ختم:گیپکولیبر یونین

واپڈا ورکرز یونین یکطرفہ ریفرنڈم کروا کر ملاز مین سے غیر قانونی فنڈ ریزنگ کرتی لیبر یونینز کے فنڈز ،مالی امور کا آڈٹ ‘ ریفرنڈم کمپنی سطح پر علیحدہ کرائے جائیں‘اقبال ڈار

گوجرانوالہ (سٹی رپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) میں علیحدہ سی بی اے کی حیثیت واضح ہونے پرگیپکو ہائیڈرو الیکٹرک لیبر یونین رہنماؤں نے واپڈا ہائیڈر ورکرز یونین کیخلاف محاذ کھول دیا۔ یونین کے صدر اقبال ڈار، ریجنل چیئرمین عباس باجوہ اور ڈپٹی سیکرٹری ساجد ڈار نے دیگر عہدیدارا ن کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا عدالتی احکامات کے بعد ملک بھر کی تقسیم کار کمپنیوں میں پرانی سی بی اے کی قانونی حیثیت ختم ہوچکی ہے ، اسکے باوجود خود کو سی بی اے ظاہر کرنا ملازمین سے سراسر ناانصافی اور فراڈ ہے ۔انہوں نے الزامات عائد کرتے کہا واپڈا ہائیڈر ورکرز یونین ہمیشہ یکطرفہ ریفرنڈم کروا کر ملاز مین سے غیر قانونی فنڈ ریزنگ کرتی رہی ہے ۔ حالیہ ریفرنڈم میں بھی چار چار ہزار بٹورے گئے ۔ بیشتر لائن سپرنٹنڈنٹس اس یونین کی آڑ میں گیپکو دفاتر میں کرپشن میں ملوث ہیں۔پشاور ہائیکورٹ ڈویژن بنچ نے فیصلے (WP No. 7228-P/2025)میں(NIRC)کا فیصلہ برقرار رکھ کر واضح کیا ہے کہ واپڈا، ڈسکوز ، جینکوز اور این ٹی ڈی سی ایل تمام الگ الگ ادارے اور ایمپلائرز ہیں۔ صنعتی تعلقات ایکٹ (IRA2012)سیکشن 62کے تحت پوری صنعت کیلئے ایک ہی سی بی اے متعین کرنے کی درخواست قانوناً غیر مؤثر ہے ۔رہنماؤں نے وزارت توانائی اور گیپکو اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ تمام لیبر یونینز کے فنڈز اور مالی امور کا فوری آڈٹ کروایا جائے ، لیبر یونینز کے ریفرنڈم کمپنی (ڈسکو)سطح پر علیحدہ کرائے جائیں۔ تاکہ ملازمین کو حقیقی نمائندگی مل سکے اور انکے مسائل حل ہو سکیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...