نارتھ کراچی میں بھتہ خوری کی نئی لہر سے صنعتکار خوفزدہ
کئی فیکٹریاں بند،100سے زائد صنعتکاروں کو پرچیاں موصول،کئی ادائیگی کرچکےنیٹ ورک بیرون ملک سے آپریٹ ہورہا،حکومت کارروائی کرے ،فیصل معیز
کراچی(رپورٹ :حمزہ گیلانی)نارتھ کراچی انڈسٹریل ایریا میں بھتہ خوری کے بڑھتے واقعات نے صنعتکاروں کو نئے عذاب میں مبتلا کردیا ۔صنعتکارپیداوار محدود یا فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔صدر نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری فیصل معیز نے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو میں انکشاف کیا کہ صرف چند ماہ کے دوران صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی ہے جہاں کاروباری برادری خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگی ہے ،اسی سبب فیکٹریوں کوتالے پڑگئے ہیں۔ فیصل معیز کے مطابق انڈسٹریل ایریا میں تقریباً 100 صنعتکاروں کو بھتے کی پرچیاں موصول ہو چکی ہیں ۔کئی فیکٹری مالکان نے جان و مال کے تحفظ کے پیش نظر مطالبہ کی گئی رقم ادا بھی کر دی ہے ۔تاجروں کو باقاعدہ دھمکی آمیز کالز کی جارہی ہیں۔صدر نکاٹی نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نیٹ ورک پاکستان سے باہر بیٹھ کر بھی آپریٹ کیا جا رہا ہے ۔نکاٹی صنعتکاروں کوصمدکاٹھیاواری، وسیع لاکھو اورجمیل چھاگا گروپ کے ناموں سے منسوب کالزاور پیغامات گزشتہ چارماہ سے مسلسل موصول ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں عدم ادائیگی کی صورت میں اغواء اورجان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ صنعتکار پہلے ہی مہنگی بجلی و گیس، پانی کی عدم فراہمی، بلند پیداواری لاگت اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں بھتہ خوری کی نئی لہر نے انکی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے سکیورٹی اداروں کو باقاعدہ شکایات بھی درج کرائی جاچکی ہیں ۔صنعتکاروں کا مطالبہ ہے کہ فوری رروائی کی جائے تاکہ کاروباری ماحول کو بحال کیا جا سکے ۔