مرگی کے علاج کے خلا کو ختم کرنے کا مطالبہ
مناسب معاونت سے متاثرین بامقصد اور باعزت زندگی گزار سکتے ،ماہرینمرگی نہ تو نایاب ہے ، نہ متعدی اور نہ امتیاز کی وجہ ہے ،پریس کانفرنس
کراچی(این این آئی)قومی یوم مرگی کے موقع پر کراچی میں این جی او نیورولوجی ریسرچ اینڈ پیشنٹ ویلفیئر فنڈ کے زیر انتظام نیشنل ایپیلیپسی سینٹر جے پی ایم سی میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ ڈاکٹر حبا محمود نے مرگی کو ایک عام اور قابل علاج عصبی عارضہ قرار دیا جو ملک میں بدنامی، غلط فہمیوں اور علاج کے بڑے خلا سے متاثر ہے ۔دوران سیشن ایک مختصر دستاویزی فلم دکھائی گئی جس میں ایک مریض کی کہانی کے ذریعے مرگی کے شکار افراد کو درپیش روزمرہ کے چیلنجوں کو اجاگر کیا، جس میں تشخیص میں تاخیر، علاج میں خلل اور سماجی تنہائی شامل ہیں۔ فلم میں بروقت اور مسلسل علاج کے اثرات کی اہمیت کو بھی واضح کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر زرینہ مغل نے کہا کہ اگرچہ مرگی سے دو ملین سے زائد پاکستانی متاثر ہیں لیکن آگاہی اور مناسب معاونت کے ذریعے زیادہ تر افراد بامقصد اور باعزت زندگی گزار سکتے ہیں بشرطیکہ سستی ادویات، تربیت یافتہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور اور کمیونٹی سپورٹ موجود ہو۔ انہوں نے مزید کہاکہ مرگی کے ہر فرد کی وجہ سے کم از کم پانچ خاندان کے افراد براہِ راست اس بیماری سے متاثر ہوتے ہیں اس کی وجہ لوگوں میں غلط فہمیاں اور آگاہی کی کمی ہے ۔ مرگی نہ تو نایاب ہے ، نہ متعدی اور نہ امتیاز کی وجہ ہے ۔ یہ ایک عوامی صحت کا مسئلہ ہے جو اخلاقی طبی عمل، علاج کے تسلسل اور باخبر کمیونٹیز کا متقاضی ہے ۔