گھر کی تعمیرات کیلئے این اوسی کیس کا فیصلہ محفوظ
بلڈر اور نیب کا معاملہ ، متاثرین کا کیا قصور ہے ،جسٹس عدنان الکریم میمنیہ 1992 کے الاٹیز ہیں جو اب تک دھکے کھا رہے ہیں،وکیل درخواست گزار
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے گلشنِ دوزان کے الاٹیز کو گھر کی تعمیرات کے لیے این او سی جاری نہ کرنے سے متعلق درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ گلشنِ دوزان سوسائٹی کے الاٹیز کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی تعمیرات کے لیے این او سی جاری نہیں کر رہی جس کے باعث متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ وکیل بلڈرز نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے سوسائٹی کو فریز کر رکھا ہے جبکہ ایک نجی تنظیم نے درخواست دائر کرکے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ زمین ان کی ملکیت ہے۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ یہ بلڈر اور نیب کا معاملہ ہے ، اس میں متاثرین کا کیا قصور ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ 1992 کے الاٹیز ہیں جو اب تک دھکے کھا رہے ہیں۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ نیب میں ملزمان نے پلی بارگین کی ہے جبکہ بلڈرز نے حلف دیا تھا کہ تمام الاٹیز کو قبضہ دیا جائے گا۔ وکیل درخواست گزار کے مطابق متاثرین کو لیز بھی مل چکی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں تعمیرات کے لیے این او سی نہیں دیا جا رہا۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی این او سی کیوں جاری نہیں کر رہی۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایس بی سی اے نے اس معاملے میں متعلقہ کاغذات طلب کیے تھے۔