روہڑی :تارکول پلانٹ کے زہریلے دھویں سے امراض پھیل گئے
بچے ،خواتین اور بزرگ سانس کی تکلیف،دمہ،کھانسی اور آنکھوں کی بیماری میں مبتلامکینوں کا احتجاج،متعلقہ حکام سے تاریخی شہر اروڑ سے پلانٹ منتقل کرنے کا مطالبہ
روہڑی (نمائندہ دنیا) روہڑی کے قریب واقع سندھ کے تاریخی شہر اروڑ میں اسفالٹ پلانٹ ٹائر جلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی کے خلاف علاقہ مکین سراپا احتجاج، بھٹی محلہ کے قریب پلانٹ سے زہریلے دھویں کے باعث بچوں اور بزرگوں میں سانس و آنکھوں کی بیماریاں بڑھنے لگیں۔ شفیق بھٹی،خدابخش بھٹی،ذیشان بانگو اور فرید احمد بھٹی کی قیادت درجنوں افراد نے ٹائر جلانے کے کارخانے کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ انسانی صحت کے لیے خطرہ بننے والے اس پلانٹ کو فوری بند کیا جائے ، پلانٹ میں اسفالٹ اور تارکول تیار کرنے کے لیے پرانے ٹائر جلائے جا رہے ہیں جس سے انتہائی زہریلا اور سیاہ دھواں فضا میں پھیل رہا ہے ، دھویں کو صاف کرنے کے لیے کوئی مؤثر فلٹر سسٹم نصب نہیں جبکہ درجہ حرارت کم کرنے کے لیے پانی کے استعمال کا بھی مناسب انتظام نہیں جس کے باعث زہریلا دھواں براہ راست آبادی تک پہنچ رہا ہے ، جس سے بچوں،خواتین اور بزرگوں میں سانس کی تکلیف، دمہ،کھانسی اور آنکھوں میں جلن جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ مظاہرین نے کہاکہ اروڑ تاریخی شہر ہے جو ماضی میں سندھ کا دارالحکومت رہ چکا ہے اور یہاں ایشیا کی قدیم تاریخی محمد بن قاسم مسجد موجود ہے ، ایسے تاریخی مقام کے قریب آلودگی پھیلانے والی صنعتی سرگرمی نہ صرف ماحول بلکہ تاریخی ورثے کے لیے بھی نقصان دہ ہے ۔ مظاہرین نے محکمہ تحفظ ماحولیات اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پلانٹ بند یا آبادی سے دور منتقل کیا جائے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔