اسپتالوں سے نکلنے والا طبی فضلہ کہاں جارہا ہے ،محکمے کے افسران لاعلم
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)محکمہ صحت سندھ کراچی کے تمام ضلعی اسپتالوں میں طبی فضلے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کے کوئی انتظامات نہیں اسی طرح کے ایم سی کے ماتحت چلنے والے سرکاری اسپتالوں میں بھی اسی صورتحال کا سامنا ہے۔
ان اسپتالوں سے نکلنے والا طبی فضلہ کہاں جارہا ہے محکمے کے افسران اس بات سے لاعلم ہیں۔ معلوم ہوا ہے بعض اسپتالوں میں خاکروبوں کے ذریعے ایک منظم گروہ اس طبی فضلے کو اٹھواکر ری سائیکلینگ بھی کرایا جاتا ہے ، اس وقت کراچی میں محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے اسپتالوں میں طبی فضلے کوسائنسی بنیادوں پر تلف کرنے کیلیے ڈیپ ہیٹ پلانٹ موجود ہی نہیں۔معلوم ہوا ہے کہ ان اسپتالوں کے بعض اہلکاروں کی مدد سے اسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کونامعلوم ٹھیکیداروں کے ذریعے نامعلوم افراد سے اٹھوایا جاتا ہے ہے اور نہ جانے اس فضلے کوکہاں پھینکا جاتا ہے اس غیر ذمہ داران اقدام سے طبی فضلے کوغیر سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے سے مختلف امراض جنم لیتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسپتال کے ایک مریض کے ایک بستر سے 10 فیصد طبی فضلہ انتہائی خطرناک نکلتا ہے۔