جراثیم کش اسپرے مہم شروع نہ ہوسکی،مچھروں کی بہتات،ملیریا کے کیسز میں خطرناک اضافہ
جنوری تا15 مارچ ملیریا کے 128 کیسز رپورٹ ،ضلع جنوبی سب سے زیادہ متاثر،مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماریاں وبا کی صورت اختیار کرسکتی ہیں،طبی ماہرین کا انتباہ
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)انتظامیہ کی غفلت اور جراثیم کش اسپرے نہ ہونے کی وجہ سے مچھروں کی نشوونما میں تیزی آگئی ہے جبکہ مچھروں کے کاٹنے کے بعد ملیریا کے کیسز میں خوفناک اضافہ ہورہا ہے ۔ذرائع کے مطابق جنوری سے 15 مارچ تک کراچی میں ملیریا کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ، جن میں ضلع جنوبی سے سب سے زیادہ 47 کیسز سامنے آئے ۔ ضلع ملیر میں 41، ضلع غربی میں 20، کورنگی میں 14، ضلع شرقی میں 4 اور ضلع وسطی میں ملیریا کے 2 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ضلع کیماڑی میں ملیریا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔علاوہ ازیں شہر کے نجی اسپتالوں اور محلوں میں موجود کلینکس کے ڈاکٹرز کے مطابق ان کے پاس بخار کی شکایت سے آنے والے 80 فیصد مریضوں میں ڈینگی اور چکن گونیا کی علامات پائی جاتی ہیں، تاہم مہنگائی کی وجہ سے مریض ٹیسٹس نہیں کروا پاتے ۔اس وقت کراچی میں چکن گونیا کے ٹیسٹ کی نارمل فیس 4 ہزار روپے جب کہ ڈینگی کے ٹیسٹ کی فیس بھی 2 ہزار روپے تک ہے ، اس لیے ڈاکٹرز کمپلیٹ بلڈ کائونٹ (سی بی سی) ٹیسٹ سے اندازہ لگا کر مریضوں کا علاج کرنے پر مجبور ہیں۔طبی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماریوں کے وبا کی صورت اختیار کرجانے کا خدشہ ہے ۔علاوہ ازیں شہر میں وائرل بخار بھی تیزی سے پھیل رہا ہے ، جس کی علامات بھی چکن گونیا، ڈینگی اور ملیریا سے ملتی جلتی ہیں جب کہ ماہرین کے مطابق شہر میں وائرل بخار کے ایسے کیسز بھی تیزی سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔