کسٹڈی میں ہلاکتیں ہوں تولوگ روزمریں گے ،ہائیکورٹ

کسٹڈی میں ہلاکتیں ہوں تولوگ روزمریں گے ،ہائیکورٹ

نوجوان حمدان کی موت کے معاملے پر ایک ماہ میں انکوائری کی ہدایت تحقیقات مکمل ہونے تک سی ڈی ٹی اہلکار کو کوئی پوسٹنگ نہ دینے کاحکم

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے شاہ لطیف ٹاؤن میں مبینہ پولیس پولیس حراست میں نوجوان حمدان کی موت کے معاملے پر ڈی آئی جی اسپیشل برانچ کو ایک ماہ میں انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک مبینہ مقابلے میں ملوث سی ڈی ٹی اہلکار کو کوئی پوسٹنگ نہ دی جائے ۔آئینی بینچ کے روبرو کیس کی سماعت کے دوران ڈی آئی جی اسپیشل برانچ سمیت دیگر پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے ۔ عدالت نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ ہائی پروفائل کیسز میں زیر حراست ملزمان کی سکیورٹی سے متعلق واضح ایس او پیز تیار کیے جائیں تاکہ زیر حراست یا عدالتی کسٹڈی میں موجود ملزمان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر اس طرح کسٹڈی میں لوگ مارے جائیں تو لوگ روز مریں گے ، پولیس اہلکار روز ملزمان کو تحویل میں لے کر آتے جاتے ہیں اس لیے ایسے معاملات میں مناسب حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ عدالت نے ڈی آئی جی اسپیشل برانچ کو ہدایت کی کہ صاف و شفاف انکوائری کرکے رپورٹ پیش کی جائے اور یہ بھی واضح کیا جائے کہ آیا مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والے افراد اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے مارے گئے یا نہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد اس کی نقول لواحقین کو بھی فراہم کی جائیں۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست نمٹا دی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں