سول اسپتال کے جامع ماسٹر پلان کی منظوری
100ارب روپے کے جامع ماسٹر پلان میں حکومت سندھ کی 50 ارب روپے کی گرانٹ بھی شامل،اسپتال میں 500نئے بستر شامل کیے جائیں گےاسپتال کے مجموعی رقبے میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا، کھلی جگہوں کی جگہ جدید عمودی ٹاورز تعمیر کیے جائیں گے ،وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس
کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سول اسپتال کراچی (سی ایچ کے ) کی ترقی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 100 ارب روپے کے جامع ماسٹر پلان کی اصولی منظوری دے دی ہے جس میں حکومت سندھ کی جانب سے 50 ارب روپے کی گرانٹ بھی شامل ہے جبکہ عبد الستار ایدھی میڈیکل ٹاور پر فوری طور پر کام شروع کیا جائے گا۔اجلاس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری صحت طاہر سانگی، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری آصف جمیل، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول اسپتال ڈاکٹر خالد بخاری اور ڈائریکٹر ڈاکٹر دبیر شریک ہوئے ۔ اجلاس میں معروف مخیر حضرات فیصل ایدھی، مشتاق چھاپڑا، ڈاکٹر سعد خالد نیاز اور شاہد عبداللہ بھی موجود تھے ۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ توسیعی منصوبے کے تحت اسپتال میں موجودہ 2,142 بستروں کے علاوہ مزید 500 نئے بستر شامل کیے جائیں گے۔
اسپتال کے مجموعی رقبے میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔ خستہ حال عمارتوں اور کم استعمال ہونے والی کھلی جگہوں کی جگہ جدید عمودی ٹاورز تعمیر کیے جائیں گے ۔ ان ٹاورز میں ایک مخصوص میڈیکل ٹاور اور سرجیکل وارڈ قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ نیا آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ (او پی ڈی)، برنس وارڈ اور جیل وارڈ بھی قائم کیے جائیں گے ۔ جدید مردہ خانہ اور ویسٹ مینجمنٹ کے نظام، انتظامی بلاکس اور نرسوں و ڈاکٹروں کے لیے خصوصی ہاسٹلز بھی منصوبے کا حصہ ہوں گے ۔وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ نئی تعمیرات کے دوران تاریخی عمارتوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔اسپتال کے اطراف میں ٹریفک کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لیے منصوبے میں سڑکوں کی توسیع بھی شامل ہے ۔ منصوبے کا مقصد سول اسپتال کراچی کو عالمی معیار کے طبی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔ اس توسیعی منصوبے کے تحت اسپتال میں بستروں کی تعداد 2,142 سے بڑھا کر مزید 500 بستر شامل کیے جائیں گے۔
اسپتال کا مجموعی رقبہ 835,095 مربع میٹر سے بڑھا کر 1,709,259 مربع میٹر کر دیا جائے گا۔ خستہ حال عمارتوں اور کم استعمال ہونے والی کھلی جگہوں کی جگہ جدید عمودی ٹاورز تعمیر کیے جائیں گے ۔ ان ٹاورز میں مخصوص میڈیکل ٹاور اور سرجیکل وارڈ قائم ہوں گے ۔ اس کے علاوہ نیا آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ، برنس وارڈ اور جیل وارڈ، جدید مردہ خانہ اور ویسٹ مینجمنٹ سسٹم، انتظامی بلاکس اور نرسوں و ڈاکٹروں کے لیے خصوصی ہاسٹلز بھی تعمیر کیے جائیں گے ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی اور اسے تیز کرنے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے پیشہ ور افراد پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔