ریڈلائن کی سائٹ سیل کیخلاف درخواست پرناظر مقرر
سائٹ کا معائنہ کرکے مشینری سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایتٹرانس کراچی، حکومت سندھ، مختیار کار، پولیس اور ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو نوٹس جاری
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ لاٹ ٹو کی سائٹ سیل کیے جانے کے خلاف درخواست پر ناظر مقرر کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے جواب طلب کر لیا۔ جسٹس سلیم جیسر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کنٹریکٹر کی درخواست پر سماعت کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ریڈ لائن منصوبہ لاٹ ٹو کا کنٹریکٹ پاکستانی اور چینی کمپنی نے 2022 میں حاصل کیا، تاہم ٹرانس کراچی نے منصوبے کا ڈیزائن ڈھائی سال بعد فراہم کیا جبکہ سائٹ بھی 30 ماہ کی تاخیر سے حوالے کی گئی۔ وکیل درخواست گزار بیرسٹر صلاح الدین نے موقف اختیار کیا کہ گزشتہ روز مختیار کار، پولیس اور ڈپٹی کمشنر نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے دفتر اور سائٹ سیل کر دی، جبکہ اربوں روپے مالیت کی مشینری سائٹ پر موجود ہے جسے نقصان کا خدشہ ہے ۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ دفتر اور سائٹ فوری طور پر ڈی سیل کرنے کا حکم دیا جائے ، تاہم عدالت نے منصوبہ ڈی سیل کرنے کی زبانی استدعا مسترد کر دی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے ناظر سندھ ہائیکورٹ سائٹ کا دورہ کرے ۔ عدالت نے ناظر سندھ ہائیکورٹ کو ہدایت کی کہ سائٹ کا معائنہ کرکے وہاں موجود مشینری سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے ۔ مزید برآں عدالت نے ٹرانس کراچی، حکومت سندھ، مختیار کار، پولیس اور ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 29 اپریل تک ملتوی کر دی۔