مصنوعی ذہانت کا حملہ ، دفاع کا سوچنا ہوگا ، وزیر تعلیم

 مصنوعی ذہانت کا حملہ ، دفاع کا سوچنا ہوگا ، وزیر تعلیم

اے آئی ہماری سوچ اور طرزِ فکر پر آہستہ آہستہ اثر انداز ہو رہی ہے ، ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیا دینے جا رہے ہیں، سردارشاہبچوں کو اپنی زمین، ثقافت اور معاشرے سے جوڑنا ناگزیر ،بچے صرف اسکرینز تک محدود ہو گئے تو تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہوں گی، سمٹ میں اظہار خیال

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان اکیڈمک کنسوشیم اور ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن کے تعاون سے سمٹ کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ بحیثیت مہمان خصوصی شریک ہوئے ۔آئی بی اے کراچی میں منعقدہ سمٹ میں فیوچر ریڈی لرنرز کی تیاری اور جدید تعلیمی تقاضوں پر مختلف سیشنز جاری ہوئے ۔سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی نے افتتاحی خطاب میں جدید تعلیمی چیلنجز پر روشنی ڈالی، ری کلیمنگ ہیومن ایجنسی اِن ایجوکیشن سیشن میں تعلیم میں انسانی کردار اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے اثرات پر گفتگو کی۔اس موقع پر ماہرینِ تعلیم کا کہنا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں طلبہ کو صرف معلومات نہیں بلکہ لیڈرشپ اور تخلیقی صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ہوگا۔

وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کا سمٹ کے اختتامی مرحلے میں خصوصی خطاب کے دوران کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت نے حملہ کردیا ہے ’ ہمیں اب دفاع کا سوچنا ہوگا۔وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کا کہنا تھا کہ جو چیز ہمارا کام آسان بنا رہی ہے وہ مستقبل میں ہمیں کس مشکل میں ڈال سکتی ہے ، سوچنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اے آئی ہماری سوچ اور طرزِ فکر پر آہستہ آہستہ اثر انداز ہو رہی ہے ، ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیا دینے جا رہے ہیں، مصنوعی ذہانت اب ہماری تخلیقی صلاحیتوں، مسائل حل کرنے کی استعداد اور سوچنے کے انداز کو متاثر کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بچہ تصویر دیکھ کر تو بتا دیتا ہے کہ وہ قدرت کی کتنی چیزوں کو پہچانتا ہے ، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وہ حقیقت میں فطرت کے کتنا قریب ہے ، اگر ہم بچوں کو قدرت، زمین اور حقیقی زندگی کے تجربات سے نہیں جوڑیں گے تو اے آئی ان کی سوچ پر حاوی ہو جائے گی۔

ایران اور امریکا کے تنازع سے یہ بات سیکھنے کو ملتی ہے کہ ایک ملک ٹیکنالوجی میں کمزور ہونے کے باوجود اپنی زمین اور شناخت کے لیے کس طرح ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے ۔صوبائی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ بچوں کو اپنی زمین، ثقافت اور معاشرے سے جوڑنا ناگزیر ہے ، ایران نے خاص طور پر اسٹیم ایجوکیشن پر بہت زیادہ کام کیا ہے ۔مستقبل کی اصل انٹیلی جنس بچے کو زمین، فطرت اور اس کی خوبصورتی سے جوڑے رکھنا ہے ، ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو ٹیکنالوجی استعمال کرے ، مگر انسانیت نہ بھولے ۔انہوں نے کہا کہ اگر بچے صرف اسکرینز تک محدود ہو گئے تو تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہوں گی، تعلیم میں انسانی رابطہ، احساس اور مشاہدہ کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں