پی ایچ اے میں مالی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیاں

پی ایچ اے میں مالی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیاں

اہم قواعد نظر انداز ،16کروڑمقررہ مقصد کی بجائے آپریشنل اخراجات پر خرچ

لاہور (سٹاف رپورٹر سے )پی ایچ اے لاہور میں مالی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیاں،ٹیکس ادائیگیوں اور دیگر فنڈز کے استعمال سے متعلق اہم انکشافات ہوئے ہیں۔دستاویزی ریکارڈ اور آڈٹ رپورٹس کے مطابق ادارے نے جنرل سیلز ٹیکس اور پنجاب ریونیو اتھارٹی کو ادا کی جانے والی سولہ کروڑ روپے کی رقم مقررہ مقصد کی بجائے آپریشنل اخراجات پر خرچ کر دی۔ دو برسوں میں مالی معاملات میں کئی اہم قواعد کو نظر انداز کیا گیا۔2024 اور 2025 کے دوران متعدد اخراجات بورڈ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کی منظوری کے بغیر کیے گئے ۔ ترقیاتی منصوبوں کیلئے جمع کرائی گئی ٹھیکیداروں کی سکیورٹی اور ضمانتی رقوم بھی آپریشنل ضروریات کیلئے استعمال کی گئیں، جس سے نا صرف مالی نظم و ضبط متاثر ہوا بلکہ ٹھیکیداروں کے اعتماد کو بھی دھچکا لگا ۔ضمانتی رقوم کے استعمال سے آئندہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے ٹھیکیداروں کی ٹینڈرز میں شرکت کم ہونیکا خدشہ ہے۔ٹیکس ادائیگیوں میں تاخیر اور رقوم کے غیر متعلقہ استعمال پر بھی ادارے کو قانونی پیچیدگیوں اور ممکنہ جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔مالی مشکلات پر معمول کے امور بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جن میں ملازمین کی تنخواہیں، پارکوں کی دیکھ بھال اور تزئین و آرائش جیسے بنیادی کام شامل ہیں۔آڈٹ حکام کے مطابق فنڈز کے غیر مناسب استعمال اور مالی قواعد کی خلاف ورزیوں نے ادارے کی شفافیت پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں