ٹریفک مسائل ،ایلی ویٹیڈ ایکسپریس وے منصوبہ پھر تعطل کا شکار

ٹریفک  مسائل ،ایلی  ویٹیڈ ایکسپریس  وے  منصوبہ  پھر  تعطل  کا  شکار

منصوبہ رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام سے ایک بار پھر خارج ،منصوبے کی موجودہ لاگت نوے ارب روپے تک پہنچ گئی روٹ 47کو بھی ایلی ویٹیڈ ایکسپریس وے سے منسلک کرنیکی تجویز دی گئی، یہ تجویز بھی کاغذی کارروائی سے آگے نہ بڑھ سکی

لاہور( سٹاف رپورٹر سے )ایلی ویٹیڈ ایکسپریس وے منصوبہ ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوگیا۔سی بی ڈی گلبرگ سے بابو صابو تک ایلی ویٹیڈ کوریڈور بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا، جس کا مقصد شہر کے اہم ٹریفک کوریڈورز کو تیز رفتار رابطہ فراہم کرنا تھا۔منصوبے کی منظوری کے لیے محکمہ ہاؤسنگ کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کو سمری بھی ارسال کی گئی، تاہم سمری پر مزید کام روک دیا گیا ہے اور منصوبہ رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام سے ایک بار پھر خارج ہوگیا ہے ۔منصوبے کی موجودہ لاگت کا تخمینہ نوے ارب روپے تک پہنچ چکا ہے ، جس کے باعث رواں مالی سال میں اس پر عملی کام شروع نہ کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے ۔

ایلی ویٹیڈ ایکسپریس وے کے روٹ اور ڈیزائن میں بھی مختلف اوقات میں تبدیلیاں زیرِ غور آتی رہی ہیں۔کینال روڈ، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، شادمان، ملتان روڈ اور بند روڈ سے گزرتے ہوئے مختلف مقامات کو مجوزہ الائنمنٹ میں شامل کرنے کی تجاویز سامنے آئیں، تاہم یہ منصوبہ بندی عملی شکل اختیار نہ کرسکی۔روٹ 47 کو بھی ایلی ویٹیڈ ایکسپریس وے کے ساتھ منسلک کرنے کی تجویز دی گئی، مگر یہ تجویز بھی کاغذی کارروائی سے آگے نہ بڑھ سکی۔سی بی ڈی گلبرگ سے بابو صابو تک فلائی اوورز اور ایلی ویٹیڈ کوریڈور کی صورت میں ایک بڑے ٹرانسپورٹ منصوبے کا تصور کئی سال سے زیرِ بحث ہے ، لیکن ہر بار آغاز کی امید کے باوجود تعمیراتی مرحلہ شروع نہ ہوسکا۔ اربوں روپے کے اس منصوبے پر اب تک ابتدائی تعمیراتی کام بھی شروع نہیں ہوسکا، جبکہ لاہور کے ٹریفک مسائل کے حل کے لیے اسے ایک اہم مجوزہ کوریڈور قرار دیا جاتا رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...