بادو باراں، آم کی فصل کو شدید نقصان
پیداوار میں 70فیصدکمی، پنجاب میں 2لاکھ 60ہزار ایکڑ رقبے پر باغات، سالانہ 14لاکھ میٹرک ٹن پیداوار حاصل ہوتی،بیماریوں کے حملوں سے بھی نقصانات بڑھ گئے2025میں 22ملین ڈالر کا آم ایکسپورٹ کیا، بیرون ملک مانگ زیادہ، 2مختلف اقسام زیادہ لگانے کیساتھ ایکسپورٹ سے متعلق کاوشیں تیز کردیں،محکمہ زراعت حکام
ملتان (سٹاف رپورٹر )جنوبی پنجاب میں طوفانی اندھیوں سے آم کے باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے جس سے ستر فیصد آم کی پیداوار کم ہونے پر باغبانوں کی معاشی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں تفصیل کے مطابق پنجاب میں دو لاکھ ساٹھ ہزار ایکڑ رقبے پر آم کے باغات ہیں جن سے سالانہ چودہ لاکھ میٹرک ٹن آم کی پیداوار ہوتی ہے لیکن روا ں سال پہلے مرحلے میں کالا تیلا سمیت مختلف بیماریوں کے حملے نے پھل کو شدید متاثر کیا جبکہ موجودہ صورتحال میں طوفانی آندھیوں نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے جسے آم کی پیداوار ستر فیصد کم ہونے پر کاشتکاروں کے معاشی مسائل بھی کافی حد تک بڑھ گئے ہیں ۔دوسری جانب محکمہ زراعت کے حکام کا موقف ہے کہ گزشتہ سال ایک بائیس ملین ڈالر کا آم ایکسپورٹ کیا تاہم روان سال بھی بیرون ممالک آم کی مانگ بہت زیادہ ہے اور اسی لئے دو مختلف اقسام کا آم زیادہ لگانے کے ساتھ ان کی ایکسپورٹ کے حوالے سے بھی کاوشیں کر رہے ہیں موسمی تبدیلی سے صرف تیس فیصد پیداوار ہونے کیساتھ ساتھ آم کی مٹھاس بھی متاثر ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود عام مارکیٹ میں آم کی فی کلو قیمت تین سو سے چار سو روپے تک پہنچ چکی ہے۔