انتہا پسندی کے عالمی دن کے موقع پر آگاہی واک اور سیمینار

انتہا پسندی کے عالمی دن کے موقع پر آگاہی واک اور سیمینار

انتہا پسندی کے عالمی دن کے موقع پر آگاہی واک اور سیمینار دن کو منانے کا مقصد نوجوانوں میں مثبت سوچ میں اضافہ کرنا ،وائس چانسلر

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی آف سرگودھا میں شعبہ سوشیالوجی اینڈ کریمنالوجی اور پنجاب پروبیشن اینڈ پیرول سروس کے اشتراک سے انسدادِ پُرتشدد انتہا پسندی کے عالمی دن کے موقع پر آگاہی واک اور سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد طلبہ و نوجوان نسل میں پُرتشدد انتہا پسندی کے خطرات، اس کی وجوہات اور اس کا مؤثر مقابلہ کرنے کے طریقوں کے بارے میں شعور و آگاہی کو فروغ دینا تھا۔واک کی قیادت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس نے کی جبکہ اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر پنجاب پروبیشن اینڈ پیرول سروس محمد عامر اسلم، ڈین فیکلٹی آف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر عامر علی، چیئرپرسن شعبہ سوشیالوجی اینڈ کریمنالوجی ڈاکٹر شہزاد خاور مشتاق،ڈائریکٹر ریاض شاد ہم نصابی فورم ڈاکٹر محمد منیر گجر، ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز ڈاکٹر محمود الحسن، مفتی ہارون،اور بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات شریک ہوئے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرقیصر عباس نے کہا کہ اس دن کو منانے کا مقصد نوجوانوں میں مثبت سوچ، تحمل و برداشت اور باہمی احترام جیسے اقدار میں اضافہ کرنا ہے ۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ ہمیں پُرتشدد انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنا ہوں گے ۔

 اسسٹنٹ ڈائریکٹر پنجاب پروبیشن اینڈ پیرول سروس محمد عامر اسلم نے کہا کہ پُرتشدد انتہا پسندی ایک عالمی چیلنج ہے جس کا مقابلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں تک محدود نہیں؛ بلکہ اس کے پیچھے کارفرما محرکات جیسے غربت، سماجی عدم مساوات، تعلیم کی کمی اور سیاسی محرومیاں بھی ہیں، جنہیں سمجھنا اور ان کے خلاف اجتماعی کوششیں کرنا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خاص طور پر تعلیمی اداروں، نوجوان قیادت اور معاشرتی فاؤنڈیشنز کے ذریعہ رواداری، گفت و شنید اور مثبت معاشرتی اقدار کو فروغ دے کر انتہا پسندی کے اثرات کو کم کر سکتا ہے ، اور ساتھ ہی پروبیشن اینڈ پیرول سروس جیسے ادارے عدالتی حکم پر رہنے والے افراد کے لیے تربیتی، مشاورتی اور سماجی روابط کے پروگراموں کے ذریعے ری ہیبلیٹیشن اور شمولیت جیسے اقدامات کے ذریعے معاشرے میں امن و استحکام کو فروغ دیتے ہیں۔انہوں نے طلبہ سے تاکید کی کہ وہ نہ صرف نصابی تعلیم بلکہ معاشرتی ذمہ داری کا شعور بھی اپنائیں، تاکہ ایک مضبوط، پرامن اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دیا جا سکے ۔ ڈاکٹر شہزاد خاور مشتاق نے کہا کہ پُرتشدد انتہا پسندی کے خلاف سب لوگوں کو اجتماعی اور مربوط کردار ادا کرنا چاہیے ، جس میں تعلیمی ادارے ، سرکاری و غیر سرکاری ادارے اور نوجوان خود سب شامل ہوں۔سیمینار سے شعبہ اسلامیات کے ڈاکٹر محمدہارون نے بھی خطاب کیا اور تشدد و انتہا پسندی کے خاتمہ کے لیے اسلامی نقطہ نظر کو اجاگر کیا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں