چیک اینڈ بیلنس کا فقدان تعلیم بالغاں اور غیر رسمی تعلیمی نظام کا بیڑاہی غرق
تعلیم بالغاں کے حوالے سے بھی کارکردگی صفر رہی ،فنڈز کے تاخیر سے اجراء کے سبب انتظامی امور میں ضلعی و تحصیل سطح پر سنگین نوعیت کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں
سرگودھا(سٹاف رپورٹر)چیک اینڈ بیلنس کے فقدان اورنچلی سطح پرمبینہ بے ضابطگیوں نے دیگر اضلاع کی طرح سرگودھا میں بھی تعلیم بالغاں اور غیر رسمی تعلیمی نظام کا بیڑا ہی غرق کر کے رکھ دیا ہے شرح خواندگی میں اضافہ کیلئے شروع کئے گئے محکمہ تعلیم کے 5مختلف پراجیکٹس اہداف کی عدم تکمیل پر ایک دوسرے میں ضم کر کے نئے منصوبے کا آغاز کیا گیا تھا تو جو فائدہ مند ثابت نہ ہو سکا،کمیونٹی لرننگ سنٹرز پراجیکٹ،پنجاب لٹریسی موومنٹ پراجیکٹ،پنجاب ورک پلیس لٹریسی پراجیکٹ، تعلیم سب کیلئے اور آؤ پڑھائیں پراجیکٹ کو ‘‘پنجاب ایکسلریٹڈ فنگشنل لٹریسی اینڈ نان فارمل بیسک ایجوکیشن پراجیکٹ ’’میں ضم کرکے ضلع کے تمام لٹریسی سنٹرزنئے منصوبے کے کنٹرول میں دیئے گئے تھے مگر منصوبہ کے دوسر مرحلہ کے تحت ایجوکیشن، ایگزامینیشن اور ایڈمنسٹریشن کے شعبے فعال ہوئے اور نہ ہی تاحال ان لٹریسی سنٹرز کی حالت زار بہتر ہو سکی۔ لگ بھگ تمام لٹریسی سنٹرز عملی طور پر غیر فعال ہیں،نئے منصوبے کو پرانے سیٹ اپ کے تحت چلانے کی کوشش قومی خزانے کے نقصان کے علاوہ کچھ نہ دے سکی،جبکہ تعلیم بالغاں کے حوالے سے بھی کارکردگی صفر رہی ،فنڈز کے تاخیر سے اجراء کے سبب انتظامی امور میں ضلعی و تحصیل سطح پر سنگین نوعیت کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، اضافی الاؤنسز وصول کرنے کے باوجود فیلڈ ٹیموں نے بوگس اعداد و شمار فراہم کئے ۔جس کے باعث شرح تعلیم میں اضافے کایہ توسیع منصوبہ بھی نہ صرف افادیت کھو چکا ہے بلکہ یہ قومی خزانے پر بوجھ بن چکا ہے ، بالخصوص فنڈز کے استعمال کی پیچیدگیوں کے باعث ریکارڈ بھی نامکمل ہے ۔