مرغی کا گوشت ساڑھے چھ سو روپے فی کلو سے تجاوز کر گیا
مرغی کا گوشت ساڑھے چھ سو روپے فی کلو سے تجاوز کر گیا، مڈل مین اور شیڈ مالکان کی مناپلی کی وجہ سے انتظامیہ مکمل طور پر بے بس
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) چیک اینڈ بیلنس کے فقدان اور حکومتی احکامات پر ناقص عملدرآمد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ناجائز منافع خوری کا سلسلہ بدستور جاری مرغی کا گوشت ساڑھے چھ سو روپے فی کلو سے تجاوز کر گیا، تفصیل کے مطابق کامرس انڈسٹریز اینڈ انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ضلعی حکومتوں کو مڈل مین کے منافع کی حد 10روپے فی کلومقرر کرنے اور چیک اینڈ بیلنس کے حوالے سے جاری گائیڈ لائن پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے مرغی کا گوشت ایک مرتبہ پھر چھ سو روپے سے تجاو ز کر گیا ہے ، مڈل مین اور شیڈ مالکان کی مناپلی کے ساتھ ساتھ اثر و رسوخ کی وجہ سے مرغی کی قیمتوں کے تعین کے سلسلہ میں انتظامیہ مکمل طور پر بے بس ہے ، مرغی فروشوں کا کہنا ہے کہ مڈ ل مین مافیا رات کو جو ریت مقرر کرتی ہے اسی پر اگلے روز گوشت کی فروخت ہوتی ہے ، ریٹ بڑھنے کی وجہ سے جہاں خریدارکم ہوئے ہیں وہاں لاگت میں اضافہ کے باعث مقروض ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ صارفین نے ارباب اختیار کو چیک اینڈ بیلنس بڑھانے اور مقررہ قیمت پر اشیاء کی فروخت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔