ساندل ایکسپریس طویل عرصہ بعد دوبارہ بحال
کیس کی سماعت کے بعد وفاقی محتسب نے اپنے فیصلے میں ساندل ایکسپریس کو بحال کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ، لوگوں کی بڑی تعداد مشکل میں تھی ساندل ایکسپریس ملتان سے مسافروں کو لے کر سرگودھا پہنچ گئی تو عوام میں خوشی کی لہر ، وفاقی محتسب نے تین ماہ کے عر ضے میں ٹرین کو دوبارہ چلا دیا
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) وفاقی محتسب نوید اکرام بلوچ کی مداخلت سے پاکستان ریلوے نے سرگودھا اور ملتان کے درمیان چلنے والی ساندل ایکسپریس طویل عرصہ سے بند دوبارہ بحال کردی ہے جس سے علاقے کے لاکھوں عوام کو فائدہ ہوا ہے ۔پاکستان ریلوے نے سرگودھا اور ملتان کے درمیان چلنے والی ٹرین کچھ عرصہ قبل بند کردی تھی جس سے عوام الناس بالخصوص طلباء، ملازمین، پیشہ ور اور کاروباری افراد کو سفر کے لئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ علاقے کے عوام ریلوے سے اس ٹرین کو بحال کرنے کی درخواستیں کرتے رہے لیکن شنوائی نہ ہوئی۔
24 مئی کو ساہیوال کے ایک رہائشی محمد رمضان نے سرگودھا میں وفاقی محتسب کے علاقائی دفتر میں ٹرین کی بحالی کے لئے درخواست دی۔ علاقائی دفتر کے انچارج خواجہ سیف الرحمن نے ریلوے اور پاکستان سے ریلوے حکام کو طلب کرکے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ٹرین بند کرنے کے بارے میں کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا، تاہم محتسب نے حکام نے سماعت کے دوران موقع اختیار کیا گیا کہ پاکستان ریلوے میں ہیڈکوارٹرز لاہور میں ریلوے ٹریفک کے دفتر کا اختیار ہے چنانچہ متعلقہ ریلوے ہیڈکوارٹرز میں اٹھایا گیا۔ کیس کی سماعت اور خط و کتابت کے بعد وفاقی محتسب نے اپنے فیصلے میں ساندل ایکسپریس کو بحال کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔
اب پاکستان ریلوے نے وفاقی محتسب کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ملتان اور سرگودھا کے درمیان ساندل ایکسپریس کو بحال کردیا ہے ۔ 21 اگست 2026 کو ساندل ایکسپریس ملتان سے مسافروں کو لے کر سرگودھا پہنچ گئی تو عوام الناس میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ وفاقی محتسب نے کہا ہے کہ یہ دفتر کو ہوتا تو ہماری کوشش شنوانی ہوتی۔ ہر طویل عرصے سے ریلوے کے مختلف دفاتر کے چکر کاٹتے رہے ہیں لیکن کوئی ریلیف نہ ملا۔ وفاقی محتسب نے تین ماہ بھی عر ضے میں ٹرین کو دوبارہ چلا دیا ہے ۔ ٹرین کی بحالی سے ملتان اور سرگودھا کے درمیان سیکڑوں مسافروں اور رہائشیوں کے لاکھوں عوام کو فائدہ ہوا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments