3سال بعد بھی ویلیج ایجوکیشن کمیٹیوں کا منصوبہ نتائج نہ دے سکا، ہزاروں بچے سکولوں سے باہر ٍ
کمیٹیوں کا مقصد غیر رسمی تعلیمی اداروں اور لرننگ سنٹرز کو فعال بنانا، بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنا اور شرح خواندگی میں اضافہ کرنا تھا،غیر رسمی تعلیمی اداروں اور لرننگ سنٹرز کی کارکردگی کے آڈٹ کا مطالبہ
سرگودھا (سٹاف رپورٹر)پسماندہ علاقوں میں شرح خواندگی بہتر بنانے کے لیے تین سال قبل شروع کیا گیا ‘‘ویلیج ایجوکیشن کمیٹیوں’’ کا منصوبہ تاحال مطلوبہ عملی نتائج حاصل نہ کر سکا۔ کروڑوں روپے کے غیر رسمی تعلیمی پروگرامز اور لرننگ سنٹرز کے باوجود ضلع سرگودھا میں 5 سے 16 سال عمر کے ایک لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، ضلع کی شرح خواندگی بھی تقریباً 60 فیصد تک محدود ہے ۔ضلع کے پسماندہ اور دیہی علاقوں میں تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کے لیے تین سال قبل گاؤں کی سطح پر ویلیج ایجوکیشن کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کمیٹیوں کا مقصد غیر رسمی تعلیمی اداروں اور لرننگ سنٹرز کو فعال بنانا، بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنا اور شرح خواندگی میں اضافہ کرنا تھا۔ مردم شماری کے مطابق ضلع سرگودھا میں 5 سے 16 سال عمر کے ایک لاکھ 46 ہزار سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں، جن میں 84 ہزار 975 ایسے بچے بھی شامل ہیں جو کبھی سکول نہیں گئے ، جبکہ 41 ہزار 371 بچوں نے مختلف برسوں کے دوران سکول چھوڑ دیا۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ گاؤں کی سطح پر قائم کی جانے والی کمیٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اسی طرح غیر رسمی تعلیمی اداروں اور لرننگ سنٹرز کی کارکردگی کا باقاعدہ آڈٹ بھی ضروری ہے ۔دیہی علاقوں کے مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ تعلیم اور لٹریسی پروگرام کے ذمہ دار افسران تین سالہ کارکردگی کی تفصیلی رپورٹ جاری کریں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments