بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ سروسز پر شکایات بڑھنے لگیں

بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ سروسز پر شکایات بڑھنے لگیں

بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ سروسز پر شکایات بڑھنے لگیں مبینہ بدانتظامی، عملے کے نامناسب رویے ، اضافی سٹاپس پر تشویش ، نوٹس لینے لا مطالبہ

سرگودھا (سٹاف رپورٹر)سرگودھا سے لاہور، راولپنڈی، جھنگ اور دیگر بین الاضلاعی روٹس پر چلنے والی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی جانب سے مسافروں کو معیاری سہولیات فراہم کرنے کے دعووں اور عملی صورتحال میں واضح فرق کی شکایات سامنے آنے لگی ہیں۔ مسافروں نے مبینہ بدانتظامی، عملے کے نامناسب رویے ، اضافی سٹاپس اور شکایات کے ازالے میں مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔موصولہ شکایات کے مطابق ٹرانسپورٹ کمپنیاں اپنی تشہیری مہم میں تجربہ کار اور خوش اخلاق عملے سمیت مختلف سفری سہولیات کی فراہمی کے دعوے کرتی ہیں، تاہم بعض مسافروں کو سفر کے دوران ان دعووں کے برعکس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مسافروں کا الزام ہے کہ بعض کمپنیوں کی جانب سے اسٹینڈ سے اسٹینڈ تک کا کرایہ وصول کرنے کے باوجود راستے میں اضافی ٹرمینلز یا اسٹاپس پر گاڑیاں روکی جاتی ہیں، جس سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور سفری سہولت متاثر ہوتی ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اضافی اسٹاپس اور دیگر انتظامی مسائل پر سوال اٹھانے یا احتجاج کرنے کی صورت میں بعض اوقات عملے کا رویہ بھی نامناسب ہو جاتا ہے ۔

شکایت سیل سے رجوع کرنے والے بعض مسافروں نے بھی مسائل حل نہ ہونے کی شکایات کی ہیں۔ مسافروں کے مطابق اگر ٹرانسپورٹ کمپنیوں سے باقاعدہ کرایہ وصول کیا جا رہا ہے تو انہیں مقررہ روٹس، منظور شدہ اسٹاپس اور اعلان کردہ سہولیات کے مطابق سروس فراہم کرنے کا پابند بنایا جانا چاہیے ، تاکہ مسافروں کو بہتر سفری سہولیات میسر آ سکیں اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔قابل ذکر امر یہ ہے کہ صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ کی جانب سے قبل ازیں سیکرٹری ڈسٹرکٹ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (ڈی آر ٹی اے ) کو اس معاملے پر کارروائی کرنے اور جلد از جلد عملدرآمد رپورٹ ارسال کرنے کی ہدایت کیے جانے کی اطلاع ہے ۔ تاہم شکایات کے تسلسل کے باعث متعلقہ حکام کی نگرانی، کارروائی اور سابقہ احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرگودھا سے چلنے والی بین الاضلاعی بسوں کے کرایوں، منظور شدہ روٹس، اسٹاپس، ٹرمینلز، گاڑیوں میں فراہم کی جانے والی سہولیات اور عملے کے رویے کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی جائے ۔ خلاف ورزی ثابت ہونے پر متعلقہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ کی سابقہ ہدایات پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی منظر عام پر لائی جائے ، تاکہ مسافروں کو درپیش مسائل کا ازالہ اور انہیں حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...