سموگ، پانی چوری، احکامات پر عملدرآمد سوالیہ نشان

سموگ، پانی چوری، احکامات پر عملدرآمد سوالیہ نشان

ایک ماہ گزرنے کے باوجود حکو متی اقدامات کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے ،صورتحال پر قابو پانے کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ، لو گوں کو مشکلات

سرگودھا (نعیم فیصل سے )سرگودھا ڈویژن میں سموگ کے تدارک، نہری پانی چوری کی روک تھام اور ٹریفک بے ضابطگیوں کے خاتمے کے لیے جاری کیے گئے سرکاری احکامات تاحال عملی نتائج میں تبدیل نہیں ہو سکے ۔ ڈویژن کے چاروں اضلاع میں ان مسائل سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح پر متعدد اہم فیصلے اور سخت ہدایات جاری کی گئی تھیں، تاہم ایک ماہ گزرنے کے باوجود ان اقدامات کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ ڈویژنل انتظامیہ کی جانب سے سموگ کی روک تھام، نہری پانی چوری کے خاتمے اور شوگر کین کرشنگ سیزن کے دوران ٹریفک حادثات سے بچاؤ کے لیے متعلقہ محکموں کو مربوط حکمت عملی اپنانے اور کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔

تاہم شہری حلقوں کے مطابق ہر تیسرے روز ایک ہی نوعیت کے اعلامیے جاری ہونے کے باوجود ان مہمات میں کوئی نمایاں عملی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔سموگ کے خدشات کے پیش نظر ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی اور حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کی ضرورت بدستور موجود ہے ۔ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، صنعتی آلودگی اور دیگر ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر اقدامات نہ ہونے سے صورتحال پر قابو پانے کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔دوسری جانب نہری پانی چوری کے خلاف سخت کارروائی، ملوث عناصر کی گرفتاری اور پولیس و محکمہ آبپاشی کی مشترکہ مانیٹرنگ کے احکامات بھی عملی نتائج کے منتظر ہیں۔

اسی طرح شوگر کین کرشنگ سیزن کے دوران گنے سے لدی ٹرالیوں پر ریفلیکٹرز کی تنصیب، اوورلوڈنگ کی روک تھام اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد بھی ایک اہم چیلنج بن گیا ہے ، کیونکہ حفاظتی انتظامات میں معمولی غفلت بھی جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتی ہے ۔واضح رہے کہ ڈویژنل انتظامیہ نے متعلقہ محکموں کو مربوط حکمت عملی کے تحت کارروائیاں تیز کرنے اور مقررہ اہداف حاصل کرنے کی ہدایات دی تھیں، تاہم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان احکامات پر عملدرآمد کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے اور متعلقہ محکموں سے عملی کارکردگی کی رپورٹ طلب کی جائے۔

یہ بھی واضح کیا جائے کہ اب تک کتنے پانی چوروں کے خلاف کارروائی ہوئی، سموگ پھیلانے والے کتنے عناصر کو جرمانے کیے گئے اور اوورلوڈنگ کرنے والی کتنی ٹرالیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اجلاسوں میں بڑے فیصلے اور سخت ہدایات جاری کرنا کافی نہیں، بلکہ ان پر عملی طور پر عملدرآمد بھی ضروری ہے ۔ عوام کو محض اعلانات، دعووں اور یقین دہانیوں کے بجائے ایسے اقدامات درکار ہیں جن کے مثبت اثرات فیلڈ میں واضح طور پر نظر آئیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مقررہ حکومتی اہداف حاصل نہ کرنے والے متعلقہ محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر جواب طلبی کی جائے تاکہ ان مہمات کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...