پولیس مقابلے میں 3ہلاکتیں ،رپورٹ لاہور ہائیکورٹ پیش
میرے بے گناہ بیٹوں کو مار ڈالا ،لاشیں ہی دیدیں :والدہ کی عدالت میں دہائی خرم 14،شہزاد33اورتیمورپر18ڈکیتی کے مقدمات تھے :پراسیکیوٹرجنرل
لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد ظفر نے سی سی ڈی سے 5افراد کی بازیابی کے لئے دائر کی گئی درخواست نمٹا دی ۔دوران سماعت گزشتہ روز سی سی ڈی نے تین افراد کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے متعلق رپورٹ پیش کردی۔سماعت شروع ہوتے ہی سائلہ صفیہ بی بی عدالت کے سامنے بین کرتی رہی کہ اس کے بے گناہ بیٹوں کو پولیس نے مار دیا، میں مر جاؤں، میرے بیٹے بے گناہ تھے ، میری بہوئیں بیوہ ہو گئیں ، پولیس اہلکار رات ایک بجے ان کےبیٹوں کو دفنا کر آئے ہیں،اگر بیٹوں کو قتل کر دیا گیا ہے تو کم از کم ان کی لاشیں ہی دے دی جائیں، خدشہ ہے کہ زیر حراست باقی دو افراد کو بھی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے ۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل فخر عباس نے عدالت کو بتایا کہ خرم شہزاد، تیمور اور شہزاد مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دو ملزموں مشتاق احمداور محمود کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے ۔عدالت نے استفسار کیا کہ ہلاک ہونے والے افراد کے خلاف کتنے مقدمات درج تھے ؟ ،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ خرم شہزاد کے خلاف ڈکیتی کے 14،شہزاد کے خلاف 33 اور تیمور کے خلاف 18 مقدمات درج تھے ۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ چھ تاریخ کو یہ درخواست عدالت میں دائر ہوئی اور اسی روز مبینہ پولیس مقابلے کا واقعہ بھی پیش آیا۔