سیکرٹری جنرل یو این کا غیر معمولی اقدام آرٹیکل99کا استعمال،ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا:سلامتی کونسل کے15ارکان کو خط:غزہ بحران،عالمی امن کو خطرہ:اقوام متحدہ

سیکرٹری جنرل یو این کا غیر معمولی اقدام آرٹیکل99کا استعمال،ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا:سلامتی کونسل کے15ارکان کو خط:غزہ  بحران،عالمی   امن  کو  خطرہ:اقوام  متحدہ

غزہ،نیو یارک (اے ایف پی ،رائٹرز)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بین الاقوامی امن اور سلامتی کو درپیش موجودہ خطرات کو مزید بڑھا سکتی ہے ۔

 انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کے بانی چارٹر کے شاذ و نادر ہی استعمال ہونے والے آرٹیکل 99 کا استعمال کیا جو انہیں کسی بھی ایسے معاملے پر سلامتی کونسل کی توجہ دلانے کا اختیار دیتا ہے ۔انہوں نے 15 رکنی کونسل کو لکھے ایک خط میں کہا کہ امن عامہ کے درہم برہم ہونے کا شدید خطرہ ہے ۔2017 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ کے سربراہ نے اپنے اس اختیار کا استعمال کیا ہے ۔سلامتی کونسل کے ارکان پر زور دیتے ہوئے انتونیو گوتریس نے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے اعلان کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں صحت کی دیکھ بھال کا نظام تباہ ہو رہا ہے اور شہریوں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات انسانی بنیادوں پر کسی بھی موثر اقدام کو ناممکن بنا رہے ہیں اور غزہ میں کوئی جگہ بھی محفوظ نہیں ہے ۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز غزہ میں 250 کے لگ بھگ اہداف کو نشانہ بنایا، حماس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے سرحدی قصبوں پر درجنوں راکٹ داغے ، ان میں بیشتر بئر سبع شہر کے صنعتی علاقے میں گرے جس سے متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئیں، ایک شخص زخمی ہوا۔ غزہ میں جھڑپوں کے دوران ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت 2 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے ، جھڑپوں ، ٹینکوں کی شیلنگ اور ڈرون حملوں میں متعدد فلسطینی بھی شہید ہوئے ۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق نابلس شہر کے بلاطہ مہاجر کیمپ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے چار فلسطینی زخمی ہوئے ، جہاں 24 سالہ عبدالنصر مصطفی دم توڑ گیا۔ شمالی مغربی کنارے کے الفارا مہاجر کیمپ کے قریب اسرائیلی فوج کیساتھ جھڑپوں میں 16 سالہ عبدالرحمن اور 23 سالہ ابراہیم شہید ہو گئے ۔بیت لحم کے ایک مہاجر کیمپ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے تین فلسطینی زخمی ہو گئے ۔

ادھر ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر تورک نے جنیوا میں پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے فلسطینی گہرے خوف کی حالت میں رہ رہے ہیں، انہیں مسلسل بمباری کا نشانہ بنایا جا ر رہا ہے ، فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے ۔ حماس کی قید میں جنسی تشدد کے الزامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ ان کی ٹیم کو الزامات کی تحقیق کی اجازت دے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل پر کئی مرتبہ زور دے چکے ہیں کہ ان کی ٹیم کو اپنے دعوؤں کی تحقیقات کرنے دے ، مگر ابھی تک اسرائیل نے جواب نہیں دیا۔ حماس جنسی تشدد کے اسرائیلی الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر چکی ہے ۔ ادھر اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کے ایک بڑے اسلحہ ڈپو پر قبضے کا دعویٰ کر دیا۔دریں اثنا ترجمان اسرائیلی فوج ڈینیل ہاگری نے کہا کہ ریڈ کراس کو غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں تک رسائی ملنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں فوجی آپریشن کی توسیع کی وجہ سے ہماری توجہ یرغمالیوں کو ریسکیو کرنے کے ایک اہم مشن سے ہٹ گئی ہے ، عالمی برادری اس میں کردار ادا کرے ۔ علاوہ ازیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو حماس کی قید سے رہائی پانے والے اسرائیلیوں سے ملاقات مہنگی پڑگئی۔بات چیت کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے حماس پر دباؤ بڑھا کہ وہ ہمارے لوگوں کو رہا کرے ۔اس موقع پر ایک قیدی کے رشتہ دار نے کہا کہ یہ بکواس ہے ،رہا ہونے والی ایک خاتون نے کہا کہ حماس نے انہیں جہاں رکھا ہوا تھا وہاں پر اسرائیلی طیارے بمباری کرتے تھے ،خاتون نے کہا فلسطینی قیدیوں کو ایک دو ماہ میں نہیں، فوری رہا کیا جائے ۔ شرکانے نیتن یاہو کی موجودگی میں شرم کرو، شرم کرو جیسے الفاظ بھی کہے ۔

اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے )سیاسی ومذہبی جماعتوں کے سربراہوں ، علماومشائخ اور حماس کے رہنما نے واضح کیا ہے کہ اگر مسلمان حکمرانوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی تو ان کے خلاف مسلمان عوام بغاوت کردیں گے ، حکمرانوں سے سوال ہے کہ امت کو بچانا کس کی ذمہ داری ہے ۔مجلس اتحاد امت پاکستان کے زیراہتمام اسلام آباد کے جناح کنونشن سنٹر میں منعقدہ حرمت مسجد اقصیٰ اور امت مسلمہ کی ذمہ داری کے موضوع پر منعقدہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو دھمکی دے تو غزہ جنگ رک سکتی ہے ،دنیا میں مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہودی ہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط ملک ہے ، ہمیں بہت سی امیدیں ہیں، پاکستان اسرائیل کو پسپائی پر مجبور کرے گا ، امید ہے ہم کامیاب ہوں گے اسرائیل اپنے ناپاک ارادوں میں ناکام ہوگا۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا اگر مسلمان حکمرانوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی تو ان کے خلاف عوام بغاوت کردینگے ، مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو بتانا چاہتا ہوں تم کو تمہاری مصلحت مبارک ہو، نوجوان جذبہ جہاد کو جاری رکھیں گے ، وفاقی وزیر مذہبی امور انیق احمد نے کہا کہ یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا ،عرب لیگ کا اجلاس نشستن برخاستن ہے ، ہم ڈیڑھ ارب مسلمان خرافات میں کھو گئے ہے ۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اسی نظریہ کی حامی ہے جو اہل فلسطین اور قائداعظم کا ہے ۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ مختلف عالمی تنظیموں کی طرف سے جو قرارداد آئی وہ جنگ بندی کی قرارداد ہے ہمارا مطالبہ غزہ پر بمباری سے روکنے کا ہونا چاہیے یہ جنگ بند ہونے والی نہیں ہے ،عالم اسلام کے پاس وسائل ہیں جو ان کا ناطقہ بند کرسکتے ہیں۔ قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ یہ پہلا متحدہ اجتماع ہے جس میں تمام دینی طبقات شامل ہیں اس اجتماع سے ایک بڑا پیغام جائے گا، مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس صرف فلسطین و عربوں کا نہیں پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے ، مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر انسانی حقوق کا راگ الاپنے والی تنظیمیں کہاں ہیں صرف 5 ممالک پوری دنیا کے فیصلے کر رہے ہیں ،پروفیسر سینیٹر ساجد میر نے کہا کہ ایک صدی سے فلسطینی مظالم کا شکار ہیں، فلسطین کا مسئلہ دوبارہ زندہ ہوا ہے مجاہدین کی قربانیاں رنگ لائیں گی ۔مسلم لیگ ضیا کے سربراہ اعجاز الحق نے کہا کہ افغانستان میں سب نے دیکھ لیا ٹیکنالوجی جیتی یا جہاد جیتا مسلمان حکمران اور عوام الگ الگ کھڑے ہیں،جمیعت علمائے پاکستان کے صدر شاہ اویس نورانی نے کہا کہ فلسطین میں جہاد کیلئے ہم تیار ہیں ہمیں راستہ دیا جائے ، امیر تنظیم اسلامی شجاع الدین شیخ نے کہا کہ حماس کے مجاہدین امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں، ارضِ فلسطین میں دو ریاستی حل کا فارمولہ ناقابل عمل ہے ،چیئرمین نوجوان پاکستان عبد اللہ گل نے کہا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کے سوا پوری دنیا میں سفر کی اجازت ہے ، معاویہ اعظم طارق نے کہاکہپاکستان کو اپنے غوری و غزنوی مسجد اقصیٰ کی آزادی کیلئے استعمال کرنے کا اعلان کرنا چاہئے ۔

علاوہ ازیں مجلس اتحاد امت پاکستان کے زیر اہتمام کنونشن سنٹر اسلام آباد میں منعقدہ قومی اجتماع میں دس نکاتی مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 8دسمبر کو ملک بھر میں یوم مسجد اقصیٰ کے طور پرمنایا جائے گا اہل فلسطین کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق بنیادی حقو ق دئیے جائیں۔القدس،غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر اسرائیل کی طرف سے عسکری مداخلت اور حصار کو ختم کیا جائے نیز رفح بارڈر مستقل طور پر کھولا جائے فلسطین کے باشندوں کے قتل عام بلکہ ان کی نسل کشی کا جو گھناؤنا کھیل اسرائیل نے جاری رکھا ہوا ہے اور جس پر عالم اسلام کے ہر مسلمان کا دل بے چین ہے ۔اعلامیہ میں مسلمانوں اور تمام انصاف پسندانسانوں سے اپیل کی گئی کہ ان میں سے جن کے سفارتی تعلقات اسرائیل سے قائم ہیں، اسرائیل سے اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کریں اور اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں نیز جن غیر اسرائیلی کمپنیوں کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ اپنی آمدنی یا اس کا کوئی حصہ اسرائیل کی مدد پر خرچ کرتی ہیں ان کی مصنوعات کا بھی مکمل بائیکاٹ کیا جائے ۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماکرام اور دانشور اپنے خطبات و بیانات میں مسجد اقصی کی آزادی اور مظلوم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں اورکرتے رہیں ۔ اعلامیہ اسرائیلی ظلم کی روک تھام اور اس کی پشت پناہی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے ۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ پورافلسطین وہاں کے اصل باشند وں کا ہے ،اہل فلسطین کو اس جارحیت کے خلاف ہرطرح کی جد و جہد کا پورا حق حاصل ہے ۔ اسرائیل اور اہل فلسطین کے در میان موجودہ جنگ خالص اسلام کی بنیاد پر ایک عظیم الشان دفاعی جہاد ہے ۔یہ اجتماع یہ بات بھی واضح کرتا ہے کہ غزہ کا مسئلہ پوری امت کا اجتماعی مسئلہ ہے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں