مادورو کیخلاف امریکی کارروائی نے پاناما کے فوجی رہنما کی گرفتاری کی یادتازہ کردی
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا نے ڈیلٹا فورس کو وینزویلا کے دارالحکومت کے قلب میں بھیج کر صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ کو حراست میں لیا ہے ، قریباً ایسی ہی کارروائی 1989 میں پاناما کے فوجی رہنما مانوئل نوریگا کی گرفتاری ہے ، جو خصوصی امریکی فوجی دستوں کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
ان دونوں رہنماؤں نے حالیہ متنازع انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کیا تھا، دونوں پر امریکہ نے منشیات سمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا، اور دونوں کے خلاف کارروائی سے قبل امریکا نے بڑے پیمانے پر فوجی تیاری کی تھی۔تاہم نوریگا کی گرفتاری ایک مختصر اور فیصلہ کن جنگ کے بعد ہوئی تھی، جس میں پاناما کی افواج جلد ہی شکست کھا گئیں۔نوریگا نے ویٹیکن کے سفارتخانے میں پناہ لی، جہاں وہ 11 دن تک مقیم رہے ۔بالآخر انہیں‘نفسیاتی جنگ’ کے ذریعے باہر آنے پر مجبور کیا گیا، خاص طور پر بلند آواز میں راک موسیقی بجا کر، جس میں دی کلاش، وین ہیلن اور یو2 کے گانے شامل تھے ۔بعد ازاں انہیں امریکا لے جایا گیا، جہاں وہ منشیات کے جرائم میں مجرم قرار پائے۔