''ہم نے نوجوانوں کے ساتھ مکالمہ نہیں کیا... ہم نے نئی نسل کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی... ہم نے نوجوانوں کو مایوس کیا...‘‘ برسوں سے ایک نسل خود کو کوس رہی ہے۔ اعتراضات کے جواب میں سزا یافتہ مجرم کی طر ح سر جھکائے کھڑی ہے۔ اپنے ہاتھ سے اعترافی بیان قلم بند کرتے ہوئے‘ اپنے لیے خود ہی سزا تجویز کر رہی ہے۔ اس خود سوزی کے ساتھ‘ نوجوانوں کے طعنے بھی سنتی ہے اور ان کی سب ناکامیوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے کے لیے ہر دم تیار رہتی ہے۔ اس بات کی اتنی تکرار کی گئی ہے کہ اب اس کا شمار مسلمات میں ہو نے لگا ہے۔ ہر دانشور اس پر مہرِ تصدیق ثبت کر رہا ہے۔ میرا دل اور دماغ اس مقدمے کو قبول کر نے پرکبھی آمادہ نہیں ہوا۔
دو نسلوں کے مابین‘ زمانی بُعد کے سبب ہمیشہ فرق ہوتا ہے۔ یہ فطری ہے۔ نوجوانی میں انسان کی جسمانی قوت اور جبلی تقاضے عروج پر ہوتے ہیں۔ ہر عہد کی نوجوان نسل ان کے زیرِ اثر ہوتی ہے۔ جبلی تقاضے اور فطری مطالبات اگر پورے نہ ہوں تو نوجوان نسل احتجاج کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔ یہ احتجاج پرانی نسل کی عائد کردہ ان پابندیوں کے خلاف ہوتا ہے جو اسے گزشتہ نسل سے منتقل ہوتی ہیں اور وہ ان کی حفاظت پر مامور ہوتی ہے۔ روایتی معاشروں میں یہی ہوتا ہے۔ روایت رسم ورواج اور مذہب کے نام پر خود کو منواتی ہے۔ اس لیے نوجوانی میں لوگ عام طور پر مذہب بیزار اور آزاد خیال ہوتے ہیں۔ لبرلزم اور اشتراکیت جیسے رومانوی نظریات کے لیے سب سے سازگار دور یہی ہوتا ہے۔
یہی وہ عمر ہے جب لوگ مغربی ممالک کو جانے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کا سبب مغرب کا وہ تصور ہے جو لبرل اقدار سے عبارت ہے اور جس کی جھلکیاں انہیں فلموں میں دکھائی دیتی ہیں۔ وہاں انہیں جبلی تقاضوں کی تکمیل کے لیے سازگار ماحول دکھائی دیتا ہے۔ ملک کے معاشی حالات اس کا ثانوی سبب ہیں۔ والدین یا پچھلی نسل سے انہیں یہ شکایت نہیں کہ اس نے اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھائیں۔ انہیں شکایت ان پابندیوں سے ہے جو اُن پر عائد کی جاتی ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہی نسل جب جوانی کی حدود سے گزر کر‘ خود 'پرانی نسل‘ بنتی ہے تو اپنی اولاد کے ساتھ اس کا رویہ وہی ہوتا ہے جس کی شکایت اسے اپنے والدین سے ہوتی تھی۔ ایک روایتی معاشرے میں یہ سلسلہ صدیوں سے اسی طرح جاری ہے اور اسی طرح چلتا رہے گا۔ لبرل معاشرے البتہ اس سے بے نیاز ہو چکے ہیں۔ ان معاشروں میں دو نسلوں کے مابین تعلق تشکیلِ نو کے مرحلے سے گزر چکا۔ وہاں پرانی نسل کی کوئی ذمہ داری ہے اور نہ وہ شکایت کا مخاطب ہے۔
اپنے سماج کی تفہیم میں ہمیں ایک علمی مسئلہ بھی درپیش ہے جس کی وجہ سے ہماری نسل خود کو لاجواب پاتی اور رضاکارانہ طور پر کٹہرے میں کھڑی رہتی ہے۔ جدید سماجی علوم نے مغرب میں جنم لیا ہے۔ علم جس ماحول میں جنم لیتا ہے‘ اس کے تہذیبی اثرات کو قبول کر تا ہے۔ 'جین زی‘ اور 'بومرز‘ جیسی اصطلاحیں دراصل ان دو نسلوں کا بیان ہیں جو مغربی معاشرے میں پروان چڑھیں۔ سائنسی انقلاب نے جس کلچر کو فروغ دیا‘ اس کی تشکیل میں ٹیکنالوجی کا کردار بنیادی ہے۔ ٹیکنالوجی نے اس کلچر کو اتنا متاثر کیا کہ انسانی رویے یکسر تبدیل ہو گئے۔ جین زی تو بیسویں صدی کے آغاز میں پیدا ہوئی جو انٹرنیٹ کلچر میں پروان چڑھی۔ مغربی معاشرہ 'جدیدیت‘ سے نکل کر اب 'پس جدیدیت‘ کے دور میں داخل ہو چکا۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک قدامت اور جدیدیت کی کشمکش سے نہیں نکلے۔ ایسے معاشرے کو ایک مختلف سماج پر قیاس کرتے ہوئے‘ دو نسلوں کے باہمی تعلق کو جین زی جیسی اصطلاحوں کے زیرِ اثر سمجھنے سے فکری مغالطے جنم لیتے ہیں۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ایک پوری نسل ایک ایسے جرم میں سزا کی مستحق قرار دی جا رہی ہے جو اس نے کیا ہی نہیں۔ یہاں کوئی جین زی پائی جاتی ہے نہ بومرز۔ یہاں کے سماجی ارتقا کو سمجھنے کا یہ سانچا ہی درست نہیں۔
مجھے اتفاق ہے کہ ہمارے معاشرے میں تنقیدی زاویۂ نظر پیدا نہیں ہو سکا۔ یہاں جمالیات اور لطیف جذبات کی آبیاری نہیں ہوتی۔ اس کا ازالہ جب بھی ہوگا‘ مقامی کلچرل دائرے میں رہ کر ہی ہو گا۔ یہ روایت کی حدود ہی میں ہو گا۔ ہر روایتی معاشرے میں یہی ہوتا ہے۔ ہم جمود کا شکار ہیں مگر یہ جمود‘ اس جمود سے مختلف ہے جو چودھویں صدی کے یورپی معاشرے میں تھا۔ اس جمود کو سمجھنے کے لیے وہ علمی آلات استعمال نہیں کیے جا سکتے جو مغربی معاشرے کی رعایت سے بنائے گئے ہیں۔ اسی لیے جین زی پر ہماری نئی نسل کو قیاس کرنا ایک علمی مغالطہ ہے۔ اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی کے ایک آسودہ حال طبقے میں ممکن ہے یہ نسل پائی جاتی ہو مگر عام پاکستانی گھرانے میں پروان چڑھنے والا نوجوان اس سے مختلف ہے۔
آج پاکستانی معاشرے کو تشکیلِ نو کی ضرورت ہے۔ میں برسوں سے اس موضوع پر لکھ رہا ہوں۔ میں نے ہمیشہ سماج کو ریاست پر ترجیح دی ہے اور سیاسی تبدیلی کو سماجی تبدیلی کے تابع سمجھا ہے۔ اس کی اہمیت سے انکار نہیں۔ مجھے اس تجزیے اور لائحہ عمل سے اختلاف ہے جو پاکستانی معاشرے کو مغربی معاشرے پر قیاس کرتے ہوئے پیش کیے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر مغرب میں مذہبی جمود کا علاج سیکولرازم میں تلاش کیا گیا۔ ہمارے سماج میں اس کا علاج مذہب سے لاتعلقی میں نہیں‘ اس کی تفہیمِ نو میں ہے۔ سماجی بُنت میں اس طرح کے اور اختلافات بھی ہیں جن کو سمجھنا ضروری ہے۔
ہم اس مشاہدے کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ مذہب کی بنیاد پر جو انتہا پسند تنظیمیں اٹھیں ان کو اگر کمک ملی تو نوجوانوں سے۔ مدارس میں زیرِ تعلیم طلبہ وطالبات کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ان میں وہ خواص نہیں پائے جاتے جو جین زی سے منسوب ہیں۔ یہ کہنا شاید درست نہ ہو کہ نئی نسل اجتماعی طور پر ایک جیسے خواص رکھتی ہے جسے واضح طور پر پچھلی نسل سے ممیز کیا جا سکے۔ اسی طرح یہ بات بھی سامنے رکھنا ہو گی کہ ہماری پچھلی نسل ایثار صفت ہے۔ اس نے نئی نسل کی ضرویات کو اپنا پیٹ کاٹ کر پورا کیا ہے۔ اس لیے یہ فطری طور پر ممکن نہیں ہے کہ نئی نسل کو احسان فراموش قرار دے دیا جائے۔ یہ مغرب نہیں ہے جہاں دو نسلوں کے مابین رشتہ مفاداتی ہے۔
ہمیں پرانی نسل کو کوسنے سے زیادہ توجہ نئی نسل کی تربیت پر دینی چاہیے۔ ہمارے سماجی اور تعلیمی نظام کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں تربیت کو سرے سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہ نظام‘ تعلیم کے بنیادی مقاصد سے بے نیاز ہو کر کام کر رہا ہے۔ میرے نزدیک تعلیم کو چار مقاصد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ ایک یہ کہ آنے والی نسل میں تنقیدی شعور پیدا ہو۔ دوسرا اس کے جمالیاتی ذوق کی آبیاری ہو۔ تیسرا اس کے اخلاقی وجود کو مستحکم بنایا جائے۔ چوتھا یہ کہ یہ مقاصد اس تہذیبی ڈھانچے کی حدود میں رہ کر حاصل کیے جائیں جو اس کی اجتماعیت کو برقرار رکھتا ہے۔ جو ڈھانچہ سرسید‘ اقبال‘ شبلی‘ ابو الکلام اور فیض جیسے رجال پیدا کر سکتا ہے‘ اس کی قدر وقیمت کے بارے میں کسی احساسِ کمتری میں مبتلا ہو نے کی ضرورت نہیں۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جنہوں نے تہذیبی دائرے میں رہتے ہوئے فکر کے نئے چراغ روشن کیے۔ لہٰذا یہ دونسلوں کا جھگڑا نہیں‘ ان میں تطبیق کی کمی کا اظہار ہے۔