زندگی حقیقتوں کا تسلسل ہے‘ جن میں سے کچھ Realities ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں دو رائے قائم کی جا سکتی ہیں۔ ان میں سے ایک کیٹیگری نوشتۂ دیوار کی ہے۔ ثابت شدہ اور بار بار ثابت شدہ حالات‘ واقعات اور تاریخ کا تسلسل اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں ہے؛ برطانیہ‘ جرمنی‘ روس‘ چین‘ جاپان‘ کیوبا‘ مشرق‘ مغرب‘ افریقہ سمیت جہاں یو ایس اے نے رجیم چینج کے لیے کارروائیاں نہ کی ہوں۔ جہاں اُس کی فوج حملہ آور نہ ہوئی ہو اور ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعد امریکی صدور نے یہ نہ کہا ہو کہ ہم نے عراق کو آزادی دلوادی‘ لیبیا اور افغانستان کو آزادی دلوا دی۔ اس میں شک و شبہے کی کوئی گنجائش بھی نہیں ہے کہ امریکہ نے جہاں جہاں رجیم چینج کروائی وہاں اُس کے پالے ہوئے پٹھوؤں کوکُرسیٔ اقتدار پہ نہ بٹھایا گیا ہو۔
امپیریل ازم کی اسی تاریخ میں یہ ناقابلِ تردید حقیقت بھی شامل ہے امریکہ بہادر نے ہمارے پہلے وزیراعظم شہیدِ ملت لیاقت علی خان کو خفیہ آپریشن کے ذریعے منظر سے ہٹایا۔ جبکہ ون مین ون ووٹ سے برسرِ اقتدار آنے والے دوسرے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو کھل کر اور قیدی نمبر 804‘ وزیراعظم عمران خان کی پاپولر ووٹ سے برسر اقتدار آنے والی حکومت کو سائفر سے برسرِ عام شکار کیا۔ اب جو کچھ وینزویلا میں 12 گھنٹے تک ہوتا رہا اُس کے بعد اگر کسی کو کوئی شک و شبہ ہے کہ آج سے تقریباً چار سال پہلے‘ 8 مارچ 2022ء کو عمران خان کے خلاف اویں ای عدم اعتماد کی تحریک آ گئی‘ سپریم کورٹ بالکل اویں ای آدھی رات کو کھل گئی‘ یہ رجیم چینج نہیں تھی‘ تو ایسے فرد یا گروہ کی عقل پہ ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے لیاقت علی خان کے قتل کے بارے میں امریکہ نے خود اپنے کاغذات پبلک کیے۔ امریکی سیکرٹری خارجہ ہنری کسنجر نے ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں دھمکی آمیزخط کا کتابی اعتراف کیا۔ جبکہ رجیم چینج کے تین بڑے کرداروں میں سے ایک مولانا فضل الرحمن نے ٹی وی انٹرویو میں کہا: ہمیں جنرل باجوہ نے بلا کر عمران خان کی حکومت کے خلاف رجیم چینج پر مجبور کیا تھا۔ زُہرا نگاہ نے اپنے منفرد اندازمیں یوں کہا:
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے وہ حملہ نہیں کرتا
درختوں کی گھنی چھائوں میں جا کر لیٹ جاتا ہے
لیکن امپیریل ازم صرف نظامِ حکومت نہیں ہوتا بلکہ طاقتور گروہ کے کاروبار کو طاقت کے زور پر پھیلانا ہوتا ہے۔ اسی لیے ہفتے کے روز سوشلسٹ انقلابی ہوگو شاویز کے ملک وینزویلا پر امریکہ نے 150 جنگی جہازوں سے حملہ کیا۔ بارہ گھنٹے کی اس لڑائی کی کامیابی میں رجیم چینج کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مڈورو کے گھر یعنی کراکاس میں خود فروش اور وطن فروش سہولت کار ڈھونڈ لیے تھے ۔ ایسے سہولت کار جنہوں نے 50 ملین ڈالر انعام کے عوض قومی آزادی صرف 12 گھنٹے میں سرنڈر کر دی۔ اس سرنڈر کے چند گھنٹے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صاحب نے ان لفظوں میں شاہی فرمان جاری کیا ''استحکام آنے تک اب وینزویلا کو ہم چلائیں گے‘‘۔ یعنی وینزویلا کے عوام کی حقیقی آزادی اور خود مختاری ختم شد۔
یہ بھی ریکارڈ پر ہے‘ امریکی صدر نے وینزویلا جیسی دھمکیاں ایران کو بھی دینا شروع کر رکھی ہیں۔ ایران کے ایک بھگوڑے کو امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو تقریباً پچھلے ایک سال سے عالمی سٹیج پر ساتھ کھڑا کر کے متعارف اور پروموٹ کر رہے ہیں۔ ویسے بھی ایران میں کئی بار امریکہ نے رجیم چینج کروا رکھی ہے۔
رجیم چینج کے امریکی ایجنٹوں میں سے ایک پہلوی بادشاہت کا آخری حکمران رضا شاہ پہلوی قاجار خاندان کی بادشاہت میں فوجی ملازم تھا۔ قاجار خاندان کے آخری بادشاہ احمد شاہ قاجار کے خلاف ایرانی فوج کے مغرب نواز افسروں کے گروپ نے 1921ء میں بغاوت کر دی۔ بندوق بردار باغی احمد شاہ قاجار کے شاہی محل کی دیواریں پھلانگ کر سکیورٹی بریچ کرتے ہوئے احمد شاہ قاجار پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس فوجی بغاوت نے احمد شاہ قاجار کو مجبور کیا کہ وہ ایران کے اقتدار میں فوج کو بھی حصہ دار بنائے۔ بندوق کی نوک پر ہونے والے ان مذاکرات کے نتیجے میں رضا خان نامی فوجی بغیر کسی الیکشن‘ میرٹ یا عوامی تائید وحمایت کے‘ ایران کا پہلے وزیر دفاع اور پھر وزیراعظم مقرر ہو گیا۔
احمد شاہ قاجار عملی طور پر فوجی باغیوں کا قیدی تھا۔ بغاوت کے پونے دو سال بعد علاج کے بہانے یورپ جانے کے لیے ایران سے نکلتے ہی احمد شاہ نے جلا وطنی اختیار کر لی۔ اس دوران رضا خان نے اپنے آپ کو بریگیڈیئر سے بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر پروموٹ کیا‘ پھر ایرانی مجلس یعنی پارلیمنٹ کو قابو کر لیا۔ مقبوضہ ایرانی پارلیمنٹ نے مجبوری کی حالت میں احمد شاہ قاجار کو بادشاہ کے عہدے سے معزول کیا اور اُس کی جگہ فوجی ڈکٹیٹر رضا خان کو رضا شاہ پہلوی کے نام سے 12دسمبر 1925ء کے روز شاہ آف ایران ڈکلیئر کر دیا۔ پہلوی خاندان کے اس اولین بادشاہ کو ایران پر اینگلو سوویت حملہ آوروں کے قبضے کی وجہ سے دوسری عالمی جنگ کے دوران1941ء میں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے۔
پہلوی خاندان کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کو ایران کے انقلابی لیڈر امام خمینی کے ہاتھوں معزول ہو کر ملک سے بھاگنا پڑا۔ اوپر جس مغربی ایجنٹ کو اب ایران میں انقلاب کے بجائے پادشاہی کے نعرے لگوا کر رجیم چینج کا پلان ہے‘ وہ آخری پہلوی محمد رضا کا بیٹا رضا پہلوی ہے۔ جو والدین کے ساتھ جان بچانے کے لیے تہران سے بھاگ نکلا تھا۔
اس وقت ہمارے خطے کو خود مختاری کے تہہ در تہہ چیلنجز درپیش ہیں۔ ایشیا میں تنازعات سوپ سیریل چل نکلا ہے۔ تھائی لینڈ کمبوڈیا جنگ‘ بنگلہ دیش انڈیا کشیدگی‘ پاک افغان لڑائیاں اور اب سعودی عرب اور یو اے ای ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ ایران امریکہ کشیدگی خدا کرے کسی جنگ کی شکل نہ اختیار کرے لیکن حالات بتاتے ہیں کہ پاکستان کے دروازے پر نئی جنگ کے لیے صف آرائی اور زمین کی گرمی آخری نقطہ چھو رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے اندر تہہ در تہہ سیاسی اور عوامی عدم استحکام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
فارم 47 سرکار ہر روز عمران خان سے بات کرنے پر اصرار کر رہی ہے۔ اسے پانچ بڑوں کے ڈائیلاگ کا نام دیا گیا۔ ان میں سے سیاست کا سب سے بڑا کھلاڑی اڈیالہ جیل میں ہے اور چابیاں چار بڑوں کی جیب میں۔ استحکام لانے کے لیے نیت درست ہے تو شہرِ اقتدار سے قیدی نمبر 804 صرف 26 کلومیٹر کے فاصلے پر سکیورٹی سیل میں بند ہے۔ جائو نا!... ورنہ لوگ یوں سمجھیں گے:
اسی خطرے سے نہ ماضی کی طرف آنکھ اُٹھی
مڑ کے دیکھیں گے تو بن جائیں گے ہم سنگِ نمک
نہ کوئی غم‘ غمِ تاباں نہ مسّرت بے لوث
اپنے امروز پہ تنقید نہ فردا پہ کسک
یہ چمکتی ہوئی باتیں یہ دمکتا ہوا ذہن
محض غازے کی عنایات فقط نوک پلک