ایران،ٹرمپ کا فضائی حملوں پر غور سفارتکاری کا راستہ بھی کھلا:وائٹ ہائوس

ایران،ٹرمپ کا فضائی حملوں پر غور سفارتکاری کا راستہ بھی کھلا:وائٹ ہائوس

ہم جنگ و مذاکرات دونوں کیلئے تیار:ایران ،یورپی پارلیمان میں ایرانی سفارتکاروں کا داخلہ بند،مزید پابندیوں پر غور ابتک 648مظاہرین ہلاک:انسانی حقوق، دو موساد ایجنٹ گرفتار ،ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دیدیا

واشنگٹن ،تہران (اے ایف پی)وائٹ ہاؤس نے پیر کو کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن روکنے کے لیے فضائی حملوں پر غور کر رہے ہیں،تاہم سفارت کاری کا ایک راستہ اب بھی کھلا ہے ۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کے ساتھ نجی بات چیت میں ایران کا لہجہ بالکل مختلف ہے ۔لیوٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاایک بات جس میں صدر ٹرمپ بہت ماہر ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے تمام آپشنز کھلے رکھتے ہیں۔ فضائی حملے ان بے شمار آپشنز میں سے ایک ہوں گے جو بطور کمانڈر اِن چیف ان کے سامنے موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدر کے لیے سفارت کاری ہمیشہ پہلا آپشن ہوتی ہے ۔لیوٹ نے کہاایرانی حکومت کی جانب سے جو باتیں آپ عوامی سطح پر سن رہے ہیں، وہ ان پیغامات سے بالکل مختلف ہیں جو انتظامیہ کو نجی طور پر موصول ہو رہے ہیں، وہاں سڑکوں پر لوگ مارے جا رہے ہیں۔ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس سے قبل پیر کو کہا تھا کہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود اس کے اعلیٰ سفارتکار عباس عراقچی اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے درمیان رابطے کا ایک چینل کھلا ہوا ہے ۔صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ امریکی فوج ایران کے خلاف انتہائی سخت آپشنز پر غور کر رہی ہے ، بظاہر تہران نے ان کی جانب سے پہلے طے کی گئی سرخ لکیر عبور کر لی ہے ، جس کا تعلق مظاہرین کے قتل سے تھا۔انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت نے ملاقات کیلئے رابطہ کیا ہے ، لیکن ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے ۔

انہوں نے کہاصدر یقیناً یہ نہیں چاہتے کہ تہران کی سڑکوں پر لوگ مارے جائیں، بدقسمتی سے ہم اس وقت یہی ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں۔ دہشت گردوں نے مظاہرین اور فورسز کو نشانہ بنایا۔ صورتحال اب مکمل کنٹرول میں ہے ۔دو ہفتوں میں مظاہروں کے دوران 350 مساجد کو آگ لگائی گئی۔ ٹرمپ کی مداخلت کی بات کے بعد احتجاج خونریز ہوگئے تاکہ مداخلت کا بہانہ پیدا ہوسکے ۔ ایرانی فورسز نے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا۔عباس عراقچی نے کہا کہ مظاہرین کے مطالبات جائز تھے ، حکومت انہیں سن بھی رہی تھی۔انہوں نے کہا اسلامی جمہوریہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے لیکن مذاکرات کے لیے بھی دروازے کھلے ہیں بشرطیکہ یہ منصفانہ اور باہمی احترام پر مبنی ہوں۔ایران کی حکومت نے پیر کو ملک گیر ریلیوں کے ذریعے سڑکوں پر کنٹرول بحال کرنے کی کوشش کی، جہاں ہزاروں افراد قومی پرچم کے ساتھ جمع ہوئے ۔ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کا کہنا ہے کہ فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ غرور میں ڈوبا ایک شخص پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہے ۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اقتدار کے عروج پر طاقتور ترین حکمرانوں کے ساتھ کیا ہوا۔ خامنہ ای نے حکومت کے حق میں نکالی گئی ریلیوں کو امریکا کے لیے سخت وارننگ قرار دے دیا۔ خامنہ ای نے کہا کہ عوام کی بڑی تعداد میں شرکت امریکی سیاستدانوں کے لیے پیغام ہے کہ وہ فریب کاری چھوڑ دیں اور غدار عناصر پر انحصار نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان بھرپور ریلیوں نے بیرونی دشمنوں کے ان منصوبوں کو ناکام بنا دیا جو اندرونی عناصر کے ذریعے نافذ کیے جانے تھے ۔ پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا اگر حملہ ہوا تو ایران سبق سکھائے گا۔انہوں نے ملک میں جاری احتجاجی لہر کے خلاف کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دے دیا۔ ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے مظاہروں میں شامل افراد کے خلاف فوری اور سخت سزا دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ انھوں نے کہا عدالتیں فسادیوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتیں۔

انسانی حقوق گروپ ایران ہیومن رائٹس کے مطابق ایران میں مظاہروں کیخلاف کریک ڈاؤن میں اب تک 648 افراد ہلاک ہو گئے ، اصل ہلاکتیں اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔ کچھ اندازوں کے مطابق 6ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ، تاہم چار روزہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے سبب اموات کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے ۔پیر کو مختلف شہروں میں فسادات میں شہید ہونے والے فورسز کے اہلکاروں کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی اور ملک بھر میں ایران میں شہید ہونے والوں کی یاد میں 3 روزہ سوگ منایا گیا۔پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس کے انٹیلی جنس ونگ نے ملک کے شمال مشرق میں دو موساد ایجنٹوں کو گرفتار کیا ہے ۔برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران میں سائبر حملوں کی تیاری رہا ہے ۔اسرائیلی میڈیا کادعویٰ ہے کہ ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کی مدد کا فیصلہ بنیادی طور پرکرلیا ہے ۔ یورپی پارلیمنٹ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن کے ردعمل میں تمام ایرانی سفارت کاروں اور نمائندوں کے یورپی پارلیمان کی عمارتوں میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ یورپی پارلیمان کی صدر روبیرٹا میٹسولا نے ایکس پر کہا کہ ایران کے ساتھ اب معمول کے انداز میں کام نہیں ہو سکتا،یورپی پارلیمنٹ ایسے نظام کو جائز حیثیت دینے میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گی جو تشدد، جبر اور قتل کے ذریعے خود کو قائم رکھے ہوئے ہے ۔ایران نے پیر کو فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے سفارتکاروں کو طلب کر کے ان ممالک کی جانب سے حالیہ احتجاج کی حمایت پر اعتراض کیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سفارتکاروں کو مظاہرین کی طرف سے ہونے والے نقصان کی ویڈیو دکھائی گئی اور کہا گیا کہ ان کے ممالک اپنے بیانات واپس لیں۔یورپی یونین نے ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید پابندیاں عائد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے ۔

برسلز میں یورپی یونین کے ترجمان انور العنونی نے کہا کہ مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کے بعد نئے اور زیادہ سخت پابندیوں کی تجویز دینے کے لیے یونین تیار ہے ۔چین نے امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی تعلقات میں طاقت کے استعمال اور دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے ۔ چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ کسی ملک کی خود مختاری اور سکیورٹی کا تحفظ ضروری ہے ۔ ایران میں جاری احتجاجی صورتحال کے باعث فرانس نے تہران میں اپنے سفارتخانے کے غیر ضروری عملے کو واپس بلا لیا ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دیدیا ۔انہوں نے ٹرتھ سوشل پر اپنی ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں وہ خود کو وینزویلا کے قائم مقام صدر کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ٹرمپ کی پوسٹ کے مطابق جنوری 2026 سے وہ وینزویلا کے عبوری صدر کے طور پر کام کر رہے ہیں جبکہ ان کی پوسٹ میں جے ڈی وینس کو وینزویلا کا قائم مقام نائب صدر بھی قرار دیا گیا ہے ۔واضح رہے امریکا نے 3 جنوری کو وینزویلا میں فوجی کارروائی کی تھی، جس میں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں انہیں امریکی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں ٹرمپ نے کہا امریکا گرین لینڈ لیکر رہے گا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں