ایران میں قتل و غارت بند ہوگئی،اگر پھانسیاں دی گئیں تو ایکشن لیں گے:ٹرمپ

 ایران میں قتل و غارت بند ہوگئی،اگر پھانسیاں دی گئیں تو ایکشن لیں گے:ٹرمپ

ایرانی حکام کو انسانیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے ،امریکی صدر، گرفتار مظاہرین کیخلاف فوری مقدمات اور پھانسی کی سزاؤں پر عمل کیا جائیگا،ایرانی حکومت ایران پر حملے کیلئے ممکنہ اہداف ٹرمپ کو پیش ، سعودیہ ، ترکی کی مخالفت ،جوابی حملوں کا خدشہ امریکا ، برطانیہ نے قطر فوجی اڈے سے کچھ اہلکار نکال لیے

واشنگٹن،تہران (نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے مجھے بتایا گیا ہے ایران میں مظاہرین کا قتل بند ، پھانسی نہیں دی جائے گی،اطلاع ملی ہے ایران میں قتل وغارت بند ہوگئی ہم ا س کی تحقیقات کریں گے ،ایران نے پھانسیاں بند نہ کیں تو ایکشن لینے پر مجبور ہوں گے ،وینزویلا میں جس نے راز فاش کیا تھا اسے پہچان لیا گیا جیل میں ہے ۔ ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے ۔امریکی صدر نے ایران کے حالات سے متعلق اپنے بیان میں یہ بھی کہا ایران کے حکام کو ‘انسانیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ساتھ ہی انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا اگر مظاہرین کو قتل یا سزائے موت دی گئی تو ایران کو اس کے ‘سنگین نتائج’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایرانی حکام کے پرتشدد کریک ڈاؤن میں اب تک 2400 سے زائد حکومت مخالف مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔یہ اعداد و شمار عالمی سطح پر شدید تشویش کا باعث بنے ہیں ۔ٹرمپ کی دھمکی کو نظرانداز کرتے ہوئے ایرانی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ زیرِ حراست مظاہرین کے خلاف فوری مقدمات چلائے جائیں گے اور پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ایران کے وزیر انصاف امین حسین رحیمی نے دعویٰ کیا ہے 8 سے 10 جنوری کے دوران ملک میں احتجاج نہیں ہوا بلکہ یہ مکمل خانہ جنگی تھی اور ان دو دنوں میں گرفتار کئے گئے تمام افراد مجرم ہیں کیونکہ وہ اس وقت موقع پر موجود تھے ۔بی بی سی فارسی کے مطابق امین حسین رحیمی نے بدھ کو ایران کی کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا گرفتار افراد کے ساتھ کسی قسم کی رعایت یا نرمی نہیں برتی جائے گی۔ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی بھی اس سے قبل کہہ چکے ہیں گرفتار کیے گئے افراد کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی اور انھیں جلد از جلد مقدمہ چلا کر سزا دینی چاہیے ۔ادھر امریکا اور برطانیہ نے قطر میں واقع ایک فوجی اڈے سے اپنے کچھ اہلکار نکال لیے ہیں کیونکہ خدشہ ہے کہ واشنگٹن جلد ہی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے .

، جس کے بارے میں تہران نے خبردار کیا ہے کہ اس کے جواب میں جوابی حملے کیے جائیں گے ۔بدھ کے روز ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ یہ انخلا ایک احتیاطی اقدام تھا جبکہ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ فوجی اہلکاروں کو قطر میں واقع العدید فوجی اڈے سے روانہ ہونے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران نے ان علاقائی ممالک کو جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں جیسے سعودی عرب اور ترکی کو آگاہ کر دیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو ان اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کے سربراہ علی لاریجانی نے قطر کے وزیر خارجہ سے بات کی جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اماراتی اور ترک ہم منصبوں سے گفتگو کی۔ یہ تمام ممالک امریکا کے اتحادی ہیں۔عباس عراقچی نے اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید کو بتایا کہ ملک میں امن قائم ہو چکا ہے اور ایرانی عوام غیر ملکی مداخلت کے خلاف اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث معلومات کے بہاؤ میں رکاوٹ ہے ۔رائٹرز کے مطابق اسرائیلی تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ ایران میں مداخلت کا فیصلہ کر چکے ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ ممکنہ فوجی کارروائی کی نوعیت یا اس کا دائرہ کتنا وسیع ہو سکتا ہے ۔

ایران کے ہمسایہ ممالک جن میں ترکی، مصر اور سعودی عرب شامل ہیں نے مبینہ طور پر امریکا کو ایران میں مداخلت سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام ایک ہمہ گیر جنگ کو بھڑکا سکتا ہے ۔ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے قاہرہ میں تعینات ایک سفارت کار نے کہا کہ ایسی جنگ کے اثرات یقینی طور پر نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی انتہائی سنگین ہوں گے اور انہوں نے خطے میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی ممکنہ کارروائیوں کی طرف اشارہ کیا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق، پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کو ایران میں ممکنہ اہداف کے سلسلے میں متعدد آپشنز پیش کیے ہیں جن میں ایران کا ایٹمی پروگرام اور بیلسٹک میزائل سائٹس بھی شامل ہیں تاہم عہدیداروں کے مطابق سائبر حملہ یا ایران کے داخلی سکیورٹی اداروں کے خلاف کارروائی زیادہ ممکنہ ہے ۔عہدیداروں نے کہا کسی بھی حملے میں کم از کم چند دن لگ سکتے ہیں اور اس پر ایران کی جانب سے شدید جوابی کارروائی کا امکان ہے ۔رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ کے میزائل فائر کرنے والے تین ڈسٹرائر مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں جن میں روزویلٹ بھی شامل ہے جو حال ہی میں بحر احمرمیں داخل ہوا۔

پینٹاگون کے عہدیداروں کے مطابق علاقے میں کم از کم ایک میزائل فائر کرنے والا سب میرین بھی موجود ہے ۔ایک مغربی عہدیدار نے بھی رائٹرز کو بتایا کہ اگرچہ ایران میں بے چینی غیر معمولی پیمانے پر ہو رہی ہے تاہم حکومت گرنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے اور ایران کا سکیورٹی نظام مضبوطی سے کنٹرول میں نظر آتا ہے ۔گروپ آف سیون (جی سیون) ممالک کے وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاج اور اختلافِ رائے کو دبانے کا سلسلہ جاری رکھتا ہے تو وہ اس کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ایران میں جاری مظاہروں میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ بدھ کو ادا کر دی گئی۔روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات اور معاہدوں پر عمل درآمد جاری رہے گا اور امریکی دھمکی سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ماسکو میں نمیبیا کے وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں سرگئی لاروف نے ایران کے ساتھ تجارت پر 25 فیصد امریکی ٹیرف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اپنے رویے سے ، امریکا ان قوانین کو نظر انداز کرتا ہے جن کو اس نے خود فروغ دیا اور گلوبلائزیشن کا نام دیا، وہ اپنے اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا۔ دریں اثنا امریکی صدرٹرمپ نے بدھ کو وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ طویل ٹیلیفونک گفتگو کی، جو نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد دونوں رہنماؤں کا پہلا رابطہ ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں