"IYC" (space) message & send to 7575

دنیا میں ڈنڈا راج قائم ہونے والا ہے؟ … (2)

دنیا کے دوسرے کونے میں ایک الگ قسم کا کھیل کھیلا جا رہا ہے جو صدر ٹرمپ کے وینزویلا پر قبضے کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات اور گرین لینڈ کو اپنی کالونی بنانے کے حوالے سے ہونے والی امریکی منصوبہ بندی سے بھی زیادہ خوفناک اور دور رس اثرات و نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ یہ کھیل ہے ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف عوام کا شدت اختیار کرتا ہوا احتجاج اور امریکہ کی جانب سے احتجاجیوں کی مسلسل ہلہ شیری۔ یہ مظاہرے 28 دسمبر کو ایران کے ابتر معاشی حالات کی وجہ سے کچھ رعایتیں واپس لینے پر عوام کے غم و غصے میں ہونے والے اضافے کے نتیجے میں شروع ہوئے تھے لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر گئے۔ اب یہ احتجاج ایران کی قیادت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے‘ جسے امریکی صدر ٹرمپ مزید پیچیدہ بنانے کی کوششوں میں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے پہلے کہا کہ ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی تو امریکہ اس پر رد عمل ظاہر کرے گا جو حملے کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل نامی پلیٹ فارم پر لکھا: محب وطن ایرانیو! احتجاج جاری رکھو‘ اپنے اداروں پر قبضہ کرو‘ قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام محفوظ کر لو۔ وہ بڑی قیمت چکائیں گے‘ جب تک مظاہرین کا بے معنی قتل بند نہیں ہوتا‘ تب تک میں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں‘ مدد راستے میں ہے (یعنی ایرانی عوام تک پہنچنے ہی والی ہے)‘‘۔ امریکی صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کس قسم کی مدد ایران کے مظاہرین کو ملنے والی ہے لیکن اس سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی ہے کہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر یہیں تک محدود نہیں رہے‘ انہوں نے سخت معاشی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے ایران سے تجارت کرنے والے تمام ممالک پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ان کے اس اعلان نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو شدید معاشی خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس نئے ٹیرف سے پاکستان اور بھارت کے مفادات پر بھی مختلف طریقوں سے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ ایران کے ساتھ دونوں کی تجارت کا حجم خاصا بڑا ہے۔ علاوہ ازیں چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور ایران تیل کی کل جتنی بھی تجارت کرتا ہے اس کی تقریباً 80 فیصد خریداری چین ہی کرتا ہے۔ پھر ترکیہ کے ساتھ ایران کا تجارتی حجم تقریباً 5.7 ارب ڈالر ہے۔ ترکیہ پر پہلے سے سٹیل اور ایلومینیم پر ٹیرف عائد ہیں‘ اور نئے 25 فیصد ٹیرف سے اس کے برآمدات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ عراق‘ متحدہ عرب امارات‘ روس اور وسطی ایشیا کے ممالک بھی ایران کے ساتھ خاصے بڑے حجم کی تجارت کرتے ہیں‘ چنانچہ یہ ممکن نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ 25 فیصد ٹیرف کے ساتھ ان ممالک کو مالی طور پر متاثر کریں اور دوسری جانب سے کوئی رد عمل ظاہر نہ ہو۔
جب میں یہ سطور ضبط تحریر میں لا رہا ہوں تو یہ خبر آئی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کو پھانسی دینے کی صورت میں ایران کو سخت کارروائی کے بارے میں خبردار کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایسے ہی جاری رہے لیکن جب ہزاروں لوگوں کو قتل کیا جائے اور پھانسی کی بات ہو تو پھر ان سب کا نتیجہ ایران کے لیے بالکل اچھا نہیں ہو گا۔
وینزویلا کے ساتھ امریکی برتاؤ پر تو وینزویلا سے کسی نہ کسی حوالے سے منسلک ممالک خاموش رہے اور کوئی بڑا رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا‘ لیکن سوال یہ ہے کہ ایران کے داخلی معاملات میں امریکہ کی مداخلت پر بھی سارے مہر بلب ہی رہیں گے یا اس کا کوئی واضح رد عمل ظاہر ہو گا؟ ممکن ہے جب ان کے مفادات پر براہِ راست کوئی بڑی چوٹ پڑے تو کوئی جنبش ہو‘ فی الحال تو صرف چین نے رد عمل ظاہر کیا اور کہا ہے کہ چین بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے اور تمام ممالک کی خود مختاری‘ سلامتی اور علاقائی سالمیت کے احترام کو ناگزیر سمجھتا ہے۔ چین کو امید ہے کہ ایران کی حکومت اور عوام موجودہ مشکل صورت حال پر قابو پالیں گے اور ملک میں استحکام اور نظم و ضبط برقرار رہے گا۔
چین نے جو کچھ کہا ہے اگر ایسا ہو جائے تو اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے‘ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا ہو گا بھی یا نہیں؟ ہو گیا تو بڑی اچھی بات ہے کہ روئے ارض پر ایک امن و سلامتی والا عالمی معاشرہ بن جائے گا اور سب کو سبھی عالمی حقوق میسر آئیں گے‘ لیکن بالفرض ایسا نہیں ہوتا تو اس صورت میں کیا ہو گا؟ یہ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور رونگٹے کھڑے ہونے کی وجہ یہ ہے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی تباہ کاریوں کے بارے میں ہم تاریخ کی کتابوں میں کافی کچھ پڑھ چکے ہیں۔
بہرحال اس سوال کا جواب وہی ہے جس کو بنیاد بنا کر میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں کہ دنیا میں قائم تمام ممالک کی خود مختاری‘ سلامتی اور علاقائی سالمیت کے احترام کو یقینی نہ بنایا گیا تو پھر یہاں ڈنڈا راج قائم ہو جائے گا اور ڈنڈا راج کا دوسرا نام جنگل کا قانون ہے۔ پھر انسانی معاشرے کی حالت بھی جنگل جیسی ہی ہو گی کہ جس کے پاس طاقت ہے وہی اپنی بات منوائے اور احکامات تسلیم کرائے گا اور یہاں سے اخلاقیات‘ سماجی اقدار اور باہمی بقا جیسے اصولوں کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔
اس حقیقت کو تسلیم نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں کہ امریکہ ہی تادم تحریر دنیا کی سب سے بڑی قوت اور واحد سپر پاور ہے‘ لیکن سپر پاور ہونے کا مطلب اور نتیجہ مکمل من مانی کی شکل میں نہیں نکلنا چاہیے۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی قوانین کی پاسداری نہیں کریں گے اور انہیں کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا‘ ان معاملات پر صرف اپنے دل کی بات مانیں گے تو دوسرے بڑے ممالک کے لیے مثال پیش کریں گے کہ وہ بھی طاقت کا استعمال کر کے اپنے مفادات کو محفوظ کر لیں اور یہ مت سوچیں کہ کم طاقت والے ممالک اور اقوام کا کیا بنے گا۔ ان میں طاقتور ممالک کے خلاف نفرت پیدا ہو گی اور مزید جارحانہ‘ جانب دارانہ اور غیر مساویانہ اقدامات کی صورت میں اس نفرت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا‘ یوں ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا جہاں کہیں امن سکون نہ ہو گا۔
عالمی حالات پر ایک نظر ڈالیں‘ جس کا مختصر جائزہ پیش کرنے کی میں نے بھی کوشش کی ہے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک بار پھر پہلی اور دوسری عالمی جنگوں سے پہلے والے دوراہے پر کھڑے ہیں۔ میں نہ مانوں والا جو نعرہ ہٹلر نے 1930ء کی دہائی میں بلند کیا تھا‘ ویسے ہی اقدامات اب ٹرمپ کرتے نظر آتے ہیں۔ دراصل یہی وہ معاملات ہیں جن کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش کرتے ہوئے میں بار بار یہ محسوس کرانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اگر حالات کو قابو میں کرنے کی متحدہ اور سنجیدہ کوششیں نہ کی گئیں تو پھر تیسری عالمی جنگ کے چھڑنے کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ اگر کوئی ایک ملک یا کوئی ایک عالمی لیڈر ڈنڈا راج قائم کرے گا تو پھر دوسروں کے پاس بھی ڈنڈا اٹھانے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں