اگر آپ ڈاکٹر محمد کمال مرحوم سے کبھی نہیں ملے تو آپ نہیں جان سکتے کہ کیسا خیرِ مجسم دنیا سے اُٹھ گیا۔ ڈاکٹر کمال بلا شبہ صاحبِ کمال تھے۔
میں 1985ء میں پہلی مرتبہ ڈاکٹر صاحب سے ملا۔ یہ ایک ملاقات تھی جو 40برس تک جاری رہی۔ اس میں زمانی تعطل تو آیا روحانی نہیں۔ ڈاکٹر صاحب ہمارے حلقۂ انتخاب میں قومی اسمبلی کیلئے جماعت اسلامی کے امید وار تھے۔ انیس‘ بیس برس کا یہ طالب علم بھی اُن دنوں اسلامی انقلاب کے رومان میں مبتلا تھا۔ نوجوانی کسی رومان کے بغیر گزارنا ایک جرم ہے۔ ایک ہنگامہ ضروری ہے سرِ جادہ ہستی۔ میری جوانی اسلامی انقلاب کے رومان میں گزری۔ ڈاکٹر صاحب امیدوار بنے تومیں ان کا ہم رکاب ہو گیا۔ انتخابی مہم کے دوران میں دن رات ان کے ساتھ رہا۔ ڈاکٹر صاحب نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ میں ان کے ہر انتخابی جلسے کا مقرر ہوتا۔ اس انتخابی مہم میں ڈاکٹر صاحب سے جو تعلقِ خاطر پیدا ہوا‘ وہ کبھی کم نہیں ہو سکا۔ یہ الگ بات کہ ملاقاتوں میں وہ تسلسل باقی نہ رہ سکا۔
ڈاکٹر صاحب ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے۔ واہ فیکٹری میں کلینک تھا۔ لوگ کہتے تھے ان کی دلآویز شخصیت مریض کا آدھا مرض دور کر دیتی تھی۔ خدا ترس اور انسان دوست آدمی تھے۔ طب ان کا پیشہ تھا مگر وہ پیشہ ور طبیب نہ بن سکے۔ ان کے زیادہ تر مریض عام لوگ تھے۔ ان سے فیس کیا لیتے‘ ان کی مزید مدد کرتے۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے ان کی طرح کا ایک اور ڈاکٹر بھی پیدا کیا‘ جنہیں میں براہِ راست جانتا تھا۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ یہ تعداد دو تک محدود ہے۔ میں صرف اپنے مشاہدے کی بات کر رہا ہوں۔ دوسرا نام ڈاکٹر محمد فاروق خان شہید کا ہے۔ وہ مریض کو واپسی کا کرایہ بھی دیا کرتے۔ ایک دن اپنے شفاخانے میں یہی خدمت سر انجام دے رہے تھے کہ مار ڈالے گئے۔ یہ حسنِ اتفاق ہے کہ ان دونوں طبیبوں کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ اور صوابی سے تھا۔
ڈاکٹر کمال صاحب کی خاص بات ان کی شائستگی تھی۔ تلخی باوجود کوشش کے‘ ان کی شخصیت میں جگہ نہ بنا سکی۔ پوری انتخابی مہم میں کبھی ایک بار ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے مخالف امیدواروں کی ذات کو موضوع بنایا ہو۔ ان کیلئے غیرشائستہ لفظ استعمال کیا ہو۔ وہ ہمیشہ مثبت انداز میں اپنا مقصد بیان کرتے جس کیلئے وہ انتخابی عمل کا حصہ بنتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب جماعت کے اس حلقے سے تعلق رکھتے تھے جو جماعت کے دعوتی پہلو کو اہم تر سمجھتا ہے۔ اس لیے ان کے خیال میں انتخابات توسیعِ دعوت کا ایک ذریعہ تھے۔ اس طرح وہ ہار جیت سے بے نیاز ہوتے۔ جماعت کے اکثر لوگ یہی سمجھتے ہیں۔ یہ تو بھلا ہو خرم مراد صاحب کا جنہوں نے سمجھایا کہ انتخابات توسیعِ دعوت کیلئے نہیں‘ جیتنے کیلئے لڑے جاتے ہیں۔ دعوت کا میدان سیاست نہیں‘ سماج ہے۔
ڈاکٹر کمال صاحب کے مخالف امیدواروں میں چودھری نثار علی خان بھی شامل تھے۔ ڈاکٹر صاحب کا ان کے ساتھ تعلق ہمیشہ باہمی احترام پر مبنی تھا۔ یہی معاملہ دوسرے امیدواروں کے ساتھ تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو سب کے ووٹ نہیں ملے لیکن ان کو احترام سب کا ملا۔ ان کی یہ 'جیت‘ کبھی ہار میں نہیں بدلی۔ ان کو یہ بھی پسند نہیں تھا کہ انتخابی جلسوں میں ان کے فضائل بیان ہوں۔ ان کی شائستگی اور متانت کبھی ان سے الگ نہ ہوتیں۔ جب ان سے انتخابی مہم کی حکمتِ عملی پر بات ہوتی تو ہمیشہ اخلاقی قدروں کی پاسداری کی نصیحت کرتے۔ ان کی صحبت میں رہنے کا مطلب ایک حلقۂ خیر میں رہنا تھا۔
ڈاکٹر صاحب اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ اعلیٰ رہے مگر جماعت اسلامی کی تنظیم میں زیادہ تر ایک ضلع تک محدود رہے۔ عمر کے آخری حصے میں وہ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر بنائے گئے۔ جماعت میں یہ منصب ایک طرح سے اعزازی ہوتا ہے۔ میرا احساس ہے کہ اگر وہ جماعت کی مرکزی قیادت میں فعال ہوتے تو اس سے جماعت کو فائدہ پہنچتا۔ جماعت اسلامی میں روایتی طور پر عہدہ ایک ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ لوگ خود اس کیلئے کوشش نہیں کرتے۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی خود کو اس دوڑ سے دور رکھا۔ ان کی طبیعت میں جو پاکیزگی تھے‘ اس کا تقاضا یہی تھا۔ ان سے ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے آٹھویں جماعت کے بعد کبھی نماز قضا نہیں کی۔ جتنا میں ان کو جانتا تھا‘ مجھے اس روایت کی قبولیت میں کوئی تامل نہیں۔اسی طرح کا ایک خیرِ مجسم مولانا فضل الرحیم بھی تھے جو انہی دنوں میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ان کی صحبت میں بھی کچھ وقت گزارنے کا موقع عطا فرمایا۔ جب وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن تھے‘ ان دنوں میں بھی کونسل کا رکن تھا۔ بہت خوش الحان تھے۔ کونسل کے اجلاس ہمیشہ ان کی قرأت سے شروع ہوتے۔ دعا کیلئے اکثر انہی سے درخواست کی جاتی۔ اجلاس میں کم بولتے۔ چونکہ ان کے نقطۂ نظر کی ترجمانی برادرم قاری محمد حنیف جالندھری صاحب خوش اسلوبی کے ساتھ کر دیتے تھے اس لیے وہ مزید کچھ کہنا تحصیلِ حاصل سمجھتے۔ ضرورت کے وقت بات بھی کرتے مگر اظہار کے وقت ان کی متانت اور شائستگی ان کے ساتھ رہتیں۔
مولانا فضل الرحیم جامعہ اشرفیہ کی دلآویز روایت کا نمونہ تھے۔ حلیم‘ شائستہ اور کم گو۔ یہ اوصاف بڑے لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ اس روایت سے وابستہ لوگوں کا ایک امتیاز ان کی نفاستِ طبع ہے۔ یہ ان کے اطوار میں ہے اور لباس میں بھی۔ ان سے مل کر ایک صاف ستھری شخصیت کا تاثر ابھرتا ہے۔ مولانا بھی ایسے ہی تھے۔ جب ان سے ہاتھ ملاتا تو دعا کے ساتھ استقبال کرتے۔ ان کا تعلق علم کی اس روایت سے تھا جس میں علم اور تذکیہ ہم رکاب رہتے ہیں۔ ان کے بیٹے بھی انہی کی طرح ہیں۔ جیسے وہ اپنے والدِگرامی مفتی محمد حسن کی طرح تھے۔ لوگ مسلک و فرقے سے بلند ہو کر ان کا حترام کرتے تھے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی جیسی شخصیت بھی ان کو محترم سمجھتی تھی۔ مولانا اکثر نماز جمعہ جامعہ اشرفیہ ہی میں ادا کرتے تھے۔
مولانا فضل الرحیم اور ڈاکٹر محمد کمال جیسی شخصیات کو جو بات ممتاز کرتی ہے‘ وہ ان کی متانت‘ شائستگی اور حلم ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہماری مذہبی‘ سیاسی اور صحافتی دنیا میں ان الفاظ کے مصداق بہت کم رہ گئے ہیں۔ مزید المیہ یہ ہے کہ ان شعبوں میں ان خوبیوں کے امین پیدا نہیں ہو رہے‘ الّا ما شاء اللہ۔ ایک خلا ہے جسے بدتمیزی‘ جہالت اور تکبر سے بھرا جا رہا ہے۔ تذکیہ مذہبی علمی روایت کا حصہ نہیں ہے۔ حلم تعلیم کا مقصود نہیں ہے اور شائستگی سیاست میں مطلوب نہیں ہے۔ اس کی سزا معاشرے کو مل رہی ہے۔ ہماری اخلاقی قوت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ عسکری اور معاشی قوت میں اضافہ ہو مگر اخلاقی حس کمزور پڑ جائے تو یہ اچھا سودا نہیں ہے۔ ڈاکٹر محمد کمال صاحب اور مولانا فضل الرحیم کی رحلت کا دکھ ہے مگر یہ سب اللہ کے قانون کے مطابق ہے جسے اس کی رضا سمجھ کر ہم نے قبول کرنا ہے۔ سماج کیلئے اصل تشویش کی بات یہ ہے کہ ان جیسی شخصیات کی مسند خالی ہو رہی ہے۔ جامعہ اشرفیہ سے میری خوش گمانی باقی ہے جسے ان کے بیٹے حافظ زبیر حسن صاحب سے مل کر تقویت ملی۔ علم و تذکیہ کا ایک ادارہ وجود میں آ چکا جو اس روایت کی حفاظت کر رہا ہے۔ کیا دیگر مذہبی‘ سیاسی اور صحافتی مراکز میں اس کا کوئی اہتمام ہے؟ سچ پوچھئے تو مجھے اس سوال کا جواب اثبات میں نہیں ملتا۔ رونا صرف یہ نہیں کہ نیک افراد دنیا سے اٹھ گئے‘ اصل رونا یہ ہے کہ ہم ان کے جانشین پیدا نہیں کر رہے:
'قم باذن للہ‘ کہہ سکتے تھے جو‘ رخصت ہوئے
خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گور کن