سیاحت کے دوران مسافر کا گزر ایک عجیب و غریب شہر سے ہوا!
اس شہر میں محلات تھے۔ صاف ستھری شاہراہیں تھیں! خریداروں سے چھلکتے بازار تھے۔ فلک بوس پلازے تھے۔ ریستوران تھے۔ دفاتر تھے۔ تعلیمی ادارے تھے۔ دوسرے ملکوں کے سفارت خانے تھے‘ مگر پورے شہر میں درخت ایک بھی نہ تھا۔ کوئی پودا نظر نہیں آرہا تھا۔ کہیں کوئی پھول تھا نہ پتّا! یہاں تک کہ زمین کے کسی ٹکڑے پر گھاس بھی نہ تھی۔ روئیدگی کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ مسافر نے ایک نوجوان شہری سے پوچھا کہ تمہارے شہر میں درخت کیوں نہیں؟ اس نے حیرت سے کہا: درخت کیا ہوتا ہے؟ اس نے شاید پیدائش کے بعد درخت دیکھا ہی نہیں تھا۔ اس پر مسافر کو ایک اور واقعہ یاد آگیا۔ اسے ایک اور شہر میں ایسی بارش سے واسطہ پڑا تھا جو ہفتوں سے جاری تھی اور تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ مسافر نے ایک لڑکے سے پوچھا کیا یہاں بارش رکتی بھی ہے؟ لڑکے نے جواب دیا: مجھے کیا معلوم! میں تو ابھی صرف آٹھ سال کا ہوں!
مسافر پریشان تھا۔ کئی ملکوں اور کئی براعظموں کی سیاحت کے دوران اسے پہلی بار ایسے شہر سے واسطہ پڑا تھا جو آباد تھا مگر بنجر تھا۔ کہیں کوئی گھاس تھی نہ درخت۔ یہاں تک کہ کوئی پرندہ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ نوجوان شہری کے حیران کن جواب کے بعد اسے کسی بوڑھے کی تلاش تھی کہ شاید وہ اس بنجر پن کی وجہ بتلا سکے۔ چلتے چلتے مسافر کو ایک وسیع و عریض میدان نظر آیا۔ چٹیل اور بے آب و گیاہ میدان! اس میں خاک اُڑ رہی تھی۔ کوئی آدم تھا نہ آدم زاد۔ مسافر حیرت زدہ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ دور‘ میدان کے کنارے پر چھوٹی سی جھونپڑی نظر آئی۔ وہ وہاں پہنچا۔ جھونپڑی میں بان کی چارپائی پر ایک بوڑھا بیٹھا تھا۔ مسافر نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ بتا سکتا ہے کہ اس شہر میں سبزہ اور درخت کیوں نہیں؟ سوال سن کر بوڑھے پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا۔ بہت دیرتک وہ مسافر کو دیکھتا رہا۔ اچانک اس کے منہ سے ایک دلدوز چیخ نکلی‘ پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی۔ مسافر حیران‘ پریشان کہ سوال پوچھنے کے بعد بوڑھے نے چیخنا‘ رونا دھونا کیوں شروع کر دیا۔ جھونپڑی کے ایک کونے میں پانی سے بھرا گھڑا پڑا تھا۔ مسافر نے مٹی کے پیالے میں پانی انڈیلا اور بوڑھے کو پلایا۔ حواس مجتمع کرنے کے بعد بوڑھے نے مسافر کو اپنے پاس چارپائی پر بیٹھنے کیلئے کہا۔ بوڑھے نے بتایا کہ یہ چٹیل میدان کبھی ایک سر سبز پارک تھا۔ درختوں اور پودوں سے اَٹا ہوا۔ ہر طرف پھول ہی پھول تھے۔ پرندے چہچہاتے تھے۔ لوگ باگ آکر یہاں سیر کرتے تھے۔ خواتین بنچوں پر بیٹھ کر آپس میں باتیں کرتی تھیں۔ بچے کھیلتے تھے۔ فوارے جگہ جگہ چاندی جیسا سفید پانی اُگلتے تھے۔ بوڑھا اس پارک کا باغبان تھا اور محافظ بھی! بوڑھا بول رہا تھا۔ مسافر دم بخود ہو کر سن رہا تھا۔ بوڑھے پر ایک بار پھر رونے کا دورہ پڑا۔ بہت دیر تک وہ گریہ کرتا رہا۔ پھر دوبارہ بولنا شروع کیا: ایک دن صبح جب وہ اپنی جھونپڑی سے نکل کر پارک کے وسط میں پہنچا تو اس نے عجیب خوفناک منظر دیکھا۔ چند افراد کلہاڑیاں اور آرے اٹھائے درخت کاٹ رہے تھے۔ اس پر تو جیسے بجلی گری۔ وہ دوڑ کر ان کے درمیان جا کھڑا ہوا اور چلایا کہ درخت کیوں کاٹ رہے ہو! مگر ان افراد میں سے کسی نے جواب نہ دیا۔ وہ درخت کاٹنے میں لگے رہے۔ بوڑھا چیختا چلاتا رہا۔ ہاتھ جوڑ کر ان کی منتیں کرتا رہا۔ وہ عجیب مشینی قسم کے اشخاص تھے۔ شاید روبوٹ تھے۔ یا بہرے اور گونگے! بولتے نہیں تھے۔ اس کی طرف دیکھتے بھی نہیں تھے۔ بس درخت کاٹنے میں لگے رہتے تھے۔ پھر یہ روز کا معمول ہو گیا۔ ایک ایک درخت کٹ گیا۔ درختوں کو کاٹنے کے بعد انہوں نے پھولوں والے پودے اکھیڑنے شروع کر دیے۔ جب پارک میں صرف سبزہ رہ گیا تو انہوں نے ہل چلا کر سبزے کو تہس نہس کر دیا۔ یوں ہرا بھرا سر سبز و شاداب پارک چٹیل میدان میں تبدیل ہو گیا۔ بوڑھا روز جھونپڑی سے نکل کر میدان میں آتا۔ روتا‘ آہ و زاری کرتا۔ شام ہوتی تو جا کر جھونپڑی میں چارپائی پر پڑ رہتا۔ پارک کو ویران دیکھ دیکھ کر اس کے بال غم کی شدت سے سفید ہو گئے۔ چہرے پر جھریاں پڑ گئیں۔ اب وہ ہے اور اس کی کُٹیا۔ وہ پارک کو یاد کرتا ہے اور روتا ہے۔
مسافر نے بوڑھے سے پوچھا کہ یہ تو ایک پارک کی کہانی ہے۔ باقی شہر کیوں بے لباس ہے؟ کہیں کوئی درخت یا پودا نہیں نظر آتا۔ بوڑھے نے جواب دیا کہ یہ افتاد صرف اس کے پارک پر نہیں پڑی تھی بلکہ پورے شہر پر نازل ہوئی تھی۔ تمام پارک‘ تمام سیرگاہیں‘ تمام باغ مار دیے گئے۔ درختوں کا قتلِ عام کیا گیا۔ جنگل کے جنگل ملیا میٹ کر دیے گئے۔ کسی پہاڑی پر‘ کسی شاہراہ کے کنارے‘ کسی گھر کے سامنے‘ پودا یا درخت دکھائی دیتا تو کاٹ دیا جاتا۔ جگہ جگہ سبزے کو اکھیڑا گیا۔ آگ لگائی گئی۔ ہَل چلوائے گئے۔ یہاں تک کہ شہر میں پتّا تک نہ رہا۔ پھر ایک اور مصیبت ٹوٹی۔ شہر کے مکین گھروں کے اندر جو پودے‘ پھول اور سبزیاں اگاتے تھے ان پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ طرح طرح کے حربے بروئے کار لائے گئے۔ کچھ کو مارا پیٹا گیا۔ کچھ کو زندانوں میں ڈالا گیا۔ پھر انعامی مقابلے شروع کرائے گئے۔ یہ عجیب و غریب انعامی مقابلے تھے۔ جو شخص اپنے گھر کے اندر سے باغیچہ ختم کرتا‘ جو سبزیاں اگانا چھوڑ دیتا‘ جو پھولوں والے پودوں کو نوچ کر جڑ سے اکھاڑ دیتا‘ اس کا منہ موتیوں سے بھر دیا جاتا۔ جو پورے سیکٹر سے روئیدگی کا ایک ایک نشان مٹاتا اسے چاندی میں تلوایا جاتا۔ کچھ بد دماغ ابھی تک گھروں کے اندر باغیچوں کو زندہ و شاداب رکھے ہوئے تھے‘ ان کی مخبری کرنے والوں کو سونے میں تلوایا جاتا۔ یوں ایک طویل کوشش کے بعد پورے شہر کو بنجر بنا دیا گیا۔ اب شہر کے کناروں پر جنگل ہیں نہ شہر کے اندر پارک! گھروں کے اندر بھی کچھ نہیں رہا۔ ہوٹلوں ریستورانوں اور گھروں کے ڈرائنگ روموں سے مصنوعی پودے بھی اٹھا دیے گئے تاکہ انہیں دیکھ کر کسی کو اصلی پودے نہ یاد آجائیں!
مسافر کا دل دنیا اور دنیا کے ہنگاموں سے اچاٹ ہو گیا۔ اس نے ایک کباڑیے سے ٹوٹی ہوئی چارپائی خریدی‘ اسے جھونپڑی میں بوڑھے کی چارپائی کے پاس بچھا دیا۔ وہ باقی زندگی وہیں بسر کرنا چاہتا تھا۔ وہ صبح اٹھ کر بوڑھے کے ساتھ میدان میں نکل جاتا۔ خاک اُڑ رہی ہوتی۔ وہ اور بوڑھا مل کر قتل کیے گئے پارک کا ماتم کرتے۔ آنسو بہاتے! کبھی کبھی مسافر مجید امجد کی وہ دردناک نظم پڑھتا جو اس نے اپنے شہر کے درختوں کے قتل پر کہی تھی۔
جھومتے کھیتوں کی سرحد پر‘ بانکے پہرے دار
گھنے‘ سہانے‘ چھاؤں چھڑکتے‘ بُور لدے چھتنار
بیس ہزار میں بِک گئے سارے ہرے بھرے اشجار
جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم
قاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم
گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار
کٹتے ہیکل‘ جھڑتے پنجر‘ چھٹتے برگ و بار
سہمی دھوپ کے زرد کفن میں لاشوں کے انبار
آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار
اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال
مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک اے آدم کی آل!!