بحث نہ کرنے کے طریقے

چچا اور سگے بھتیجے میں بول چال بند ہے۔ دونوں مخالف سیاسی جماعتوں کے حامی ہیں۔ دونوں میں بحث ہوئی‘ لہجے تلخ ہونے لگ گئے۔ دونوں نے ایک دوسرے کے لیڈروں کو برا بھلا کہا۔ بھتیجا گستاخی پر اتر آیا۔ دونوں کی بول چال بند ہو گئی۔ دو سگی بہنیں مختلف مسلکوں کی پیروکار ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کرنے لگیں۔ بات بحث سے بڑھ کر جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔ پھر دونوں نے ایک دوسرے کو کافر کہا اور تعلقات ختم ہو گئے۔ دو پرانے دوست اس لیے دشمن بن گئے کہ ایک کہتا تھا رمضان کے چاند کو آنکھ سے دیکھنا لازم ہے‘ دوسرا کیلنڈر کی بات کرتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو قائل کرتے رہے‘ پھر ایک دوسرے کا تمسخر اڑانے لگے‘ پھر دشنام طرازی کی نوبت آ گئی اور آخری مرحلے میں دوستی عداوت میں تبدیل ہو گئی۔
بحث ہم پاکستانیوں کی پسندیدہ سرگرمی ہے۔ شادی بیاہ کا اجتماع ہو‘ کوئی افسوس کی محفل ہو‘ کہیں لنچ یا ڈنر کیلئے احباب اکٹھے ہوں‘ جو بھی موقع ہو‘ بحث ضرور ہو گی۔ خواہ سیاسی ہو یا مسلکی! انجام بحث کا دہانوں سے نکلتی جھاگ پر ہوتا ہے۔ بیرونِ ملک آباد پاکستانیوں کا بھی یہی حال ہے۔ پہلی بات ہی یہ ہو گی کہ ''ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ یہ ایک پھندا ہے جس میں آپ پھنسے تو نکلنا مشکل بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔ کوئی عمران خان کا فدائی ہو گا کوئی جیالا ہو گا اور کوئی (ن) لیگ کا ہمدرد۔ گھنٹوں بحث ہو گی جس کا حاصل سوائے تلخی اور رنجش کے کچھ نہیں ہو گا۔ اکبر الہ آبادی نے کہا تھا:
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
ہمارے علاقے میں ایسے موقع پر کہتے ہیں کہ حلوے کا سرا ڈھونڈا جا رہا ہے۔ کیا آپ نے ان بحثوں کے نتیجے میں کبھی کسی کو اپنا نقطہ نظر بدلتے اور قائل ہوتے دیکھا ہے؟؟ کبھی نہیں! اس لیے یاد رکھیے آپ نے بحث سے گریز کرنا ہے۔ بحث سے بچنے کے کئی طریقے ہیں۔ اگر کوئی براہِ راست آپ سے پوچھتا ہے کہ ''آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘ تو آپ اپنے خیال کا اظہار مت کیجیے۔ جواب میں کہیے کہ ''آپ بہتر تجزیہ کر سکتے ہیں‘ ہم تو آپ سے سیکھتے ہیں!‘‘۔ اگر مجلس میں کچھ اور لوگ بحث کر رہے ہیں اور آپ وہاں سے اُٹھ بھی نہیں سکتے تو خاموش رہیے۔ بحث میں حصہ لینے سے بہتر ہے کہ آپ اپنے موبائل فون پر مصروف رہیں! ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہاں میں ہاں ملاتے رہیے۔ ایسے موقع پر بُزِ اخفش بن جانے میں مضائقہ نہیں! بُز‘ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے بکری کو کہتے ہیں‘ اسی سے بُزدل کا لفظ بنا ہے؛ یعنی بکری کے دل والا۔ منشی پریم چند کی مشہور کہانی ہے ''غم نہ داری بُز بخر‘‘۔ اخفش ایک فلسفی تھے‘ وہ اپنے فلسفیانہ بیانات بکری کو سناتے تھے‘ جب بکری سر ہلا دیتی تھی تو سمجھتے تھے کہ نظریہ درست ہے‘ پاس ہو گیا۔
یہ با ت یاد رکھنی چاہیے کہ ہر بات کا جواب دینا لازم نہیں۔ ہر یاوہ گو کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ جہلا سے الجھنا بھی جہالت ہی ہے۔ ایک دفعہ گھوڑے اور گدھے میں بحث چھڑ گئی۔ گدھا کہتا تھا کہ گھاس سرخ ہوتی ہے‘ گھوڑا بضد تھا کہ سبز ہوتی ہے۔ بحث نے طول پکڑا تو دونوں شیر کے پاس گئے۔ شیر نے پہلے تو فیصلہ سنایا کہ گھاس سبز ہوتی ہے‘ پھر گھوڑے کو ایک جھانپڑ رسید کیا۔ گھوڑے نے پوچھا: جہاں پناہ! میرا قصور؟ شیر نے کہا: تمہارا قصور یہ ہے کہ تم نے گدھے سے بحث کی‘ یعنی اسے اہمیت دی۔ فارسی میں کہتے ہیں ''ز جاہل گریزندہ چوں تیر شو‘‘ کہ جاہل سے تیر کی طرح دور بھاگو۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ ''جوابِ جاہلاں باشد خموشی‘‘ کہ جاہل کی بات کا جواب خاموش رہنا ہے۔ کلام مجید میں فرمایا گیا ہے کہ ''جاہل ان کے منہ لگیں تو کہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام‘‘۔ اور یہ بھی کہ ''کسی لغو چیز سے ان کا گزر ہو تو شرافت سے گزر جاتے ہیں‘‘۔ ایک عالم کے پاس ایک صاحب آئے اور عالم کو ان کی تحریر دکھا کر بتایا کہ آپ نے یہ یہ غلط لکھا ہے۔ عالم نے کہا کہ بہتر! ہم اسے درست کر دیں گے۔ جب وہ صاحب چلے گئے تو عالم کے شاگردوں نے حیرت کا اظہار کیا اور استاد سے پوچھا کہ وہ صاحب بے سروپا بات کر رہے تھے آپ نے ان کی تائید کیوں کی؟ عالم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اسے سمجھانا بیکار تھا۔ وہ بزعم خود عالم بنا ہوا تھا! جبھی کہا گیا ہے کہ:
آں کس کہ نداند‘ و بداند کہ بداند
در جہل مرکّب ابد الدھر بماند
وہ شخص جو کچھ نہیں جانتا مگر اپنے بارے میں یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے‘ (ایسا شخص) ہمیشہ ہمیشہ جہالت کا مجسمہ رہے گا۔
ایک بزرگ نے بتایا کہ وہ کسی بھی مسئلے پر اپنا مؤقف صرف ایک بار بیان کرتے ہیں۔ اگر کوئی اس پر بحث کرنا چاہے تو کہتے ہیں ''آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں‘‘۔ اس پر ایک صاحب نے اعتراض کیا اور کہا کہ ''انکل! آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کیلئے تفصیل سے بات کرنی چاہیے‘‘۔ بزرگ نے جواب دیا ''آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں‘‘۔ ایک شاعر کے طور پر مجھے ایسے ناشاعروں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے جو شعر کو وزن کے اعتبار سے موزوں طور پر نہیں پڑھ سکتے۔ ایسے آدمی کو یہ سمجھانا کہ اس کی شاعری خارج از وزن ہے‘ دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ محبوب خزاں نے کہا تھا:
بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
اگر یہ کہا جائے کہ شعر کو وزن کے اعتبار سے موزوں پڑھنے کی قابلیت پیدائشی ہوتی ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ بڑے بڑے عالم فاضل شعر کو وزن میں نہیں پڑھ سکتے۔ یہ فن سکھایا نہیں جا سکتا۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا یا سنا ہے کہ شاعری سکھانے کا سکول کھلا ہے جہاں ناشاعروں کو شاعر بنایا جاتا ہے؟ یہ فن اکتسابی (Acquired) نہیں‘ وَہبی (Gifted) ہے۔ اگر خارج از بحر شاعری کرنے والا اصرار کرے کہ اس کی شاعری درست بلکہ کمال کی ہے تو اس سے بحث کرنا ایک احمقانہ حرکت ہو گی۔ عافیت اسی میں ہے کہ اس کی شاعری پر داد دے کر جان چھڑائی جائے۔ جمال احسانی مرحوم ایک واقعہ مزے لے لے کر سنایا کرتے تھے۔ جس زمانے میں جوش ملیح آبادی کراچی میں تھے‘ ایک صاحب نے وہاں اپنے آپ کو مغلیہ خاندان کا آخری چشم وچراغ اور صحیح وارث مشہور کر رکھا تھا۔ موصوف‘ اپنے خیال میں‘ شاعری بھی کرتے تھے۔ ایک دن جوش صاحب کے پاس آئے اور اپنا کلام سنانے لگ گئے جس کا شاعری سے دور دور کا واسطہ نہ تھا۔ جوش صاحب نے کچھ دیر تو برداشت کیا پھر تنگ آ کر ملازم کو حکم دیا کہ اسے باہر نکالے۔ وہ صاحب باہر نکلتے نکلتے للکار گئے کہ ''جوش صاحب! غنڈہ گردی نہیں چلے گی! مقابلہ کرنا ہے تو شاعری میں کیجیے‘‘۔پس نوشت: معروف شاعر اعتبار ساجد انتقال کر گئے۔ ان کی غزل یاد آرہی ہے:
میں جن کے کام آ نہ سکا اُن سے معذرت؍ میں جن کے دکھ بٹا نہ سکا ان سے معذرت ٭بیمار جن کو تھی میری آمد کی آرزو؍ میں جن کے پاس جا نہ سکا ان سے معذرت ٭نادم ہوں جن کے کام یہ کاندھے نہ آ سکے؍ جو میتیں اٹھا نہ سکا ان سے معذرت ٭اچھی طرح جنہیں کبھی رخصت نہ کر سکا؍ جن کو گلے لگا نہ سکا ان سے معذرت ٭وہ جان و دل سے واقعی مجھ کو عزیز ہیں؍ میں جن کو یہ بتا نہ سکا ان سے معذرت ٭وہ خواب جن کو لکھ نہیں پایا مرا قلم؍ وہ نقش جو بنا نہ سکا ان سے معذرت

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں