افغانستان:50لاکھ خواتین اور بچے جان لیوا غذائی قلت کا شکار

افغانستان:50لاکھ خواتین اور  بچے جان لیوا غذائی قلت کا شکار

کابل (اے ایف پی)افغانستان کی طالبان حکومت نے ہفتے کو کہا ہے کہ اس کا ہدف غذائی قلت کا شکار تمام بچوں اور ماؤں کی مدد کرنا ہے ، جبکہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال ملک میں لاکھوں افراد شدید غذائی قلت کا سامنا کریں گے۔۔۔

اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے افغانستان میں ڈائریکٹر جان ایلف نے بتایا کہ 4کروڑ آبادی والے ملک میں 50لاکھ خواتین اور بچے جان لیوا غذائی قلت کا شکار ہوں گے ، کیونکہ انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے ۔ تقریباً 40 لاکھ بچوں کو غذائی قلت کے علاج کی ضرورت پڑے گی، جان ایلف نے کہا کہ یہ اعداد و شمار نہایت تشویشناک ہیں،جان ایلف نے کہا کہ حالیہ برسوں میں عالمی امداد میں کمی کے باعث فنڈز کے حصول کے امکانات نہایت کم دکھائی دیتے ہیں۔افغان وزارتِ صحت نے ہفتہ کو نسبتاً کم اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 30 لاکھ بچے اور مائیں غذائی قلت کا شکار ہیں۔وزارتِ صحت کے ترجمان شرافت زمان نے بتایا کہ تقریباً 13 لاکھ بچے معمولی غذائی قلت، 7 لاکھ شدید غذائی قلت جبکہ 9 لاکھ مائیں غذائی قلت کا شکار ہیں۔وزارت کے مطابق غذائی قلت کے علاج کی سہولیات کی تعداد 800 سے بڑھا کر3200کر دی گئی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں