امریکی فوج ایران کیخلاف لمبی لڑائی کی تیاریوں میں مصروف
امریکا اضافی بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ بھیج رہا ، فوجی مہم میں ایران کی جوہری و دیگر تنصیبات بھی نشانہ بن سکتیں:امریکی حکام تہران حکومت کی تبدیلی بہترین چیز :ٹرمپ ، میونخ میں اڑھائی لاکھ افراد کی ریلی، ایران کیخلاف فوجی کارروائی کا مطالبہ
واشنگٹن،میونخ (رائٹرز ) صدر ٹرمپ اگر ایران پر حملہ کا حکم دیدیتے ہیں تو ایسی صورت میں امریکی فوج ممکنہ طور پر کئی ہفتوں پر مشتمل کارروائیوں کی تیاری کر رہی ہے ۔ دو امریکی حکام نے یہ بات خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتائی۔حکام کے مطابق یہ ممکنہ فوجی اقدامات طویل عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں اور یہ امریکا اور ایران کے درمیان ماضی کی کشیدگی سے کہیں زیادہ سنگین تنازع کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس بارے میں سوال پر صدارتی دفتر کی ترجمان انا کیلی نے کہا صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے معاملے میں تمام اختیارات موجود ہیں۔محکمہ دفاع نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔امریکی حکام نے جمعہ کے روز بتایا کہ محکمہ دفاع ایک اضافی طیارہ بردار بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ بھیج رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہزاروں مزید فوجی اہلکار، لڑاکا طیارے ،گائیڈڈ میزائلوں سے لیس تباہ کن بحری جہاز اور دیگر عسکری ساز و سامان بھی تعینات کیا جا رہا ہے ، جو حملہ کرنے اور اس کا دفاع کرنے کی دونوں صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ حکام کے مطابق اس بار جاری منصوبہ بندی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور وسیع نوعیت کی ہے ، جس سے خطرات میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اگر طویل المدتی فوجی مہم چلائی گئی تو امریکا صرف جوہری تنصیبات ہی نہیں بلکہ ایران کی سرکاری اور سکیورٹی سے متعلق تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے ۔ اسی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا کو مکمل توقع ہے کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے ایک عرصے تک حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے ۔امریکا کے مشرقِ وسطیٰ میں مختلف ممالک میں فوجی اڈے موجود ہیں، جن میں اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ شامل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی بہترین چیز ہو سکتی ہے ،ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی شمخانی نے کہا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام ریڈ لائن ہے ، اس پر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔گزشتہ روز مختلف ممالک میں مقیم ایرانی شہریوں نے ایران کے جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کی دعوت پر دنیا کے کئی شہروں میں ریلیاں نکالیں، مظاہرین نے امریکا اور دیگر حکومتوں سے ایرانی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا،انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران کی موجودہ حکومت سے مذاکرات بند کیے جائیں ۔پولیس کے مطابق میونخ میں ہفتے کو اڑھائی لاکھ افراد نے ایرانی حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ایران میں پہلوی کی قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ رضا پہلوی نے ٹرمپ سے ایرانی عوام کی مدد کا مطالبہ کیا۔
رضا پہلوی نے میونخ میں ہزاروں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کی عبوری قیادت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ پہلوی نے وعدہ کیا کہ وہ ملک کو ایک سیکولر اور جمہوری مستقبل کی طرف لے جائیں گے اور عوام کو شفاف انتخابات کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا ۔امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کو آزادی مل کر رہے گی۔ ایرانی حکومت کیخلاف لاس اینجلس اور ٹورنٹو میں بھی بڑی ریلیاں نکالی گئیں ، سڈنی میں ہزاروں ایرانیوں نے ریلی میں شرکت کی۔سوئٹزرلینڈ نے کہا ہے کہ اگلے ہفتے عمان میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوں گے ۔