طویل جنگ مہنگائی اور سست معاشی نمو کو جنم دے سکتی
تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ، یورپ میں گیس نرخ 50 فیصد سے بھی اوپر
واشنگٹن ( اے ایف پی ) ماہرینِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد اگر مشرقِ وسطیٰ میں تنازع طویل ہو گیا تو یہ عالمی سطح پر سٹیگ فلیشن یعنی بلند مہنگائی اور سست معاشی نمو کے پریشان کن امتزاج کو جنم دے سکتا ہے ، کیونکہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس تنازع نے آبنائے ہرمز میں آمدورفت تقریباً معطل کر دی ہے ، جہاں سے عالمی بحری تیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے ۔پیر کے روز عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، اور برینٹ خام تیل تقریباً نو فیصد اضافے کے ساتھ 79.30 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔دن میں ایک موقع پر یہ 80 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گیا، جبکہ سال کے آغاز پر اس کی قیمت 61 ڈالر فی بیرل تھی۔ماہرِ معاشیات سلوین بیرسنگر نے کہا کہ یہ جنگ 1973 اور 1979 کے بعد اور 2022 کے گیس بحران کے بعد تیل کے تیسرے جھٹکے کو جنم دے سکتی ہے ۔
یورپ میں گیس کی معیاری قیمت پیر کو 50 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی۔انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے ، تاہم یہ غیر معمولی بات نہیں ہوگی کیونکہ 2008 میں تیل کی قیمت 140 ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی اور 2010 کی دہائی میں بھی 100 ڈالر سے اوپر رہی۔ Natixis بینک کے ماہرینِ معاشیات کے مطابق آبنائے ہرمز میں طویل عرصے تک آمدورفت کی رکاوٹ منڈیوں، مہنگائی کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ چین اس جنگ سے خاص طور پر متاثر ہوگا۔فرانسیسی بحریہ کے سینٹر فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے شعبئہ تحقیق کے سربراہ سیریل پوئریے کوتانسی نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ چین آبنائے ہرمز کے ذریعے آنے والے تیل پر خاص انحصار کرتا ہے ۔
انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہااصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی فیکٹری کو چلانے کے لیے کافی ایندھن دستیاب ہوگا یا نہیں۔سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کی علامت کے طور پر پیر کے روز یورپی خودمختار بانڈز کی شرحِ سود میں اضافہ دیکھا گیا۔آئی این جی بینک کے ماہرینِ معاشیات کے مطابق اگر جنگ طویل ہو گئی تو توانائی کی بلند قیمتیں، رسد و ترسیل میں رکاوٹیں اور اعتماد کا عمومی بحران مل کر عالمی تجارتی حجم پر نمایاں منفی اثر ڈالیں گے ، عین اس وقت جب عالمی معیشت ابھی تک ٹیرف کے جھٹکے سے پیدا ہونے والی مہنگائی اور شرح نمو کے اثرات کو سنبھال رہی ہے ۔Coface کے روبین نیزارڈ نے کہا کہ ان کے اندازوں کے مطابق اگر برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 15 ڈالر کا اضافہ طویل عرصے تک برقرار رہا تو عالمی شرح نمو میں تقریباً 0.2 فیصد پوائنٹس کی کمی اور مہنگائی میں تقریباً آدھا فیصد پوائنٹ اضافہ ہو سکتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ نسبتاً کمزور عالمی معاشی نمو کے تناظر میں یہ اثرات ہرگز معمولی نہیں ہوں گے ۔