خامنہ ای کی شہادت ، حیران کن تفصیلات منظر عام پر
سڑکوں کے کیمرے ہیک ، تہران کو ایسے جانتے جیسے یروشلم کو :اسرائیلی اہلکار
وشلم (اے ایف پی )ایرانی رہبر اعلٰی خامنہ ای کی شہادت کے متعلق مزید چشم کشا تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق تہران میں تقریباً تمام سڑکوں پر نگراں کیمرے سالوں پہلے اسرائیل کے ذریعے ہیک کیے جا چکے تھے ، اور ان کے انکرپٹڈ فیڈز وہاں کے سرورز پر منتقل کیے جا رہے تھے ۔اخبار کے مطابق ایک خاص کیمرے نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ (Pasteur Street، وسطی تہران) پر خاص زاویہ فراہم کیا، جس سے محافظوں کی شناخت، ان کے معمولات اور حرکات کا مشاہدہ ممکن ہوا۔ایک اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار نے فنانشل ٹائمز کو بتایاکہ ہم تہران کو ویسے ہی جانتے تھے جیسے یروشلم کو جانتے ہیں۔
یہ انکشاف اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ امریکا، اسرائیل کے حملے میں کس حد تک انٹیلی جنس معلومات کا کردار تھا اور کس طرح ایران میں حساس اہداف کی نگرانی کی گئی۔ اسرائیلی تحقیقاتی صحافی رونن برگمان نے تبصرہ کیا کہ خامنہ ای نے خود کو چھپایا نہیں تھا بلکہ عام انداز میں رہتے تھے ، جس سے ان کا مقام نشانے پر لانے کے لیے جاسوسی کا کام آسان ہوا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر مزاحیہ انداز میں کہا کہ یہ ایسے ہے جیسے انکے دروازے پر ایک نشان لگا ہوا ہو کہ’یہاں خوش مزاج خامنہ ای فیملی رہتی ہے ‘۔ کالم نگار بن کاسپٹ نے اخبار میں لکھا کہ جب موت کی تفصیلات سامنے آئیں گی، سب کے منہ کھلے رہ جائیں گے ، ایران بالکل غیر تیار حالت میں پکڑا گیا۔ ابتدائی حملے کا مطالعہ دنیا کے فوجی کالجوں میں سالوں تک کیا جائے گا۔
کچھ تجزیہ کاروں نے قیاس کیا ہے کہ 86 سال کی عمر میں علی خامنہ ای موت کو گلے لگانے کے لیے تیار تھے ، جسے وہ شہادت کے طور پر دیکھتے تھے ، یا شاید انہیں یقین تھا کہ بین الاقوامی اصول جو خودمختار رہنماؤں کے قتل کو ممنوع قرار دیتے ہیں، انہیں تحفظ فراہم کریں گے ۔ایک سابق فرانسیسی فوجی افسر اور متعدد تنازعات کے ماہر، جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے اے ایف پی کو بتایا کہ خامنہ ای کی موت کا مکمل اثر ابھی دیکھنا باقی ہے ۔ماہر نے کہا پیغام یہ ہے کہ یہ ایک صاف، درست اور بے عیب آپریشن تھا، جو ایک ہی دھماکے میں ایک نظام کی قیادت کو ختم کرتا ہے اور صورتحال کو دوبارہ ترتیب دیتا ہے ،لیکن دوسرا فریق پوکر نہیں کھیل رہا،یہ لاس ویگاس نہیں، وہ شطرنج کھیل رہے ہیں ، اور ایک بڑا مہرہ ہٹنے کا مطلب یہ نہیں کہ کھیل ختم ہو گیا ۔