مشرق وسطیٰ جنگ کا ایک ہفتہ: ٹرمپ کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات
امریکا کو طویل عرصے تک فوجی مداخلت جاری رکھنا پڑ سکتی ،حالات ٹرمپ کے کنٹرول سے باہر جا سکتے صدر عالمی معیشت، علاقائی استحکام اور وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو بھی خطرے میں ڈال رہے امریکی عوام عراق اور افغانستان کی غلطیوں کو دہرانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ،وینزویلا جیسا انداز ہ غلط ثابت امریکی ہلاکتوں سے بڑھ کر کوئی چیز جنگ کے جلد خاتمے کو تیز نہیں کر سکتی، ایران اسی پر انحصار کر رہا :سابق انٹیلی جنس افسر معاشی اثرات سے ٹرمپ کی ٹیم حیران،حملے سے پہلے تیل کی منڈیوں کے ماہرین سے مشاورت نہیں کی گئی :سابق فوجی عہدیدار ایران کے خلاف مہم کے اخراجات روز بروز بڑھ رہے ، خلیجی اتحادی بظاہر اس مہم کے حامی تاہم ہر کوئی ٹرمپ کی جنگ سے متفق نہیں
واشنگٹن (رائٹرز) ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو شروع ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہے اور اس دوران مشرقِ وسطیٰ شدید بے چینی اور عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے ۔ اس صورتحال میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑھتے ہوئے خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے ، جس سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا وہ فوجی کامیابیوں کو واضح جغرافیائی و سیاسی کامیابی میں تبدیل کر پائیں گے یا نہیں۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت اور ایران کی زمینی، بحری اور فضائی افواج کو شدید نقصان پہنچانے کے باوجود یہ بحران تیزی سے ایک وسیع علاقائی تنازع میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ اس سے خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ امریکا کو خطے میں طویل عرصے تک فوجی مداخلت جاری رکھنا پڑ سکتی ہے ، جس کے اثرات صدر ٹرمپ کے کنٹرول سے باہر بھی جا سکتے ہیں۔یہ وہ صورتحال ہے جس سے صدر ٹرمپ اپنے دونوں صدارتی ادوار میں عموماً گریز کرتے رہے تھے ۔ وہ عام طور پر تیز رفتار اور محدود فوجی کارروائیوں کو ترجیح دیتے تھے ، جیسے 3 جنوری کو وینزویلا میں کی گئی اچانک کارروائی اور جون میں ایران کے جوہری مراکز پر کیا گیا یک وقتی حملہ۔واشنگٹن میں واقع جانز ہاپکنز سکول فار ایڈوانسڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کی ماہر لورا بلومن فیلڈ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور ممکنہ طور پر طویل فوجی مہم بن سکتی ہے ۔
ان کے بقول ٹرمپ اس کے ذریعے عالمی معیشت، علاقائی استحکام اور امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں اپنی ریپبلکن پارٹی کی کارکردگی کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ٹرمپ جو اقتدار میں آتے وقت امریکا کو فضول فوجی مداخلتوں سے دور رکھنے کا وعدہ کرتے تھے ، اب ایک ایسی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں جسے بہت سے ماہرین بغیر کسی فوری خطرے کے شروع کی گئی کھلی اور غیر معینہ مدت کی جنگ قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ اور ان کے معاونین اس کے برعکس دعوے کرتے رہے ہیں، تاہم ناقدین کے مطابق ایران کی جانب سے امریکا کو فوری نوعیت کا کوئی براہ راست خطرہ موجود نہیں تھا۔اس طرح تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تک آپریشن ایپک فیوری کے لیے واضح اہداف یا کسی حتمی حکمتِ عملی کو تفصیل سے بیان کرنے میں مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ یہ کارروائی 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد امریکا کی سب سے بڑی فوجی مہم قرار دی جا رہی ہے ۔ ناقدین کے مطابق ٹرمپ نے اس جنگ کے لیے مختلف اوقات میں مختلف جواز پیش کیے ہیں اور فتح کی تشریح بھی بدلتی رہی ہے ۔تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اپنے مقاصد واضح طور پر بیان کر چکے ہیں۔
ان کے مطابق ان اہداف میں ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ان کی تیاری کی صلاحیت کو تباہ کرنا، ایرانی بحریہ کو غیر مؤثر بنانا، ایران کی جانب سے پراکسی گروپوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی صلاحیت ختم کرنا اور اسے کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دینا شامل ہے ۔دوسری جانب اگر یہ جنگ طویل ہو جاتی ہے ، امریکی ہلاکتیں بڑھتی ہیں اور خلیج سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث معاشی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے تو ٹرمپ کا یہ سب سے بڑا خارجہ پالیسی کا جوا سیاسی طور پر ان کی ریپبلکن پارٹی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔اگرچہ ٹرمپ کے بعض حامی، جو فوجی مداخلتوں کے مخالف ہیں، اس جنگ پر تنقید کر رہے ہیں، تاہم اب تک ان کی میک امریکا گریٹ اگین (MAGA) تحریک سے وابستہ بیشتر افراد ایران کے معاملے پر ان کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں تاہم اگر اس حمایت میں کسی قسم کی کمی آتی ہے تو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے لیے کانگریس پر اپنی گرفت برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے ۔ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسیع پیمانے پر امریکی عوام، خصوصاً اہم سمجھے جانے والے آزاد ووٹروں کے ایک بڑے طبقے میں اس جنگ کی مخالفت پائی جاتی ہے ۔ریپبلکن حکمتِ عملی کے ماہر برائن ڈارلنگ کے مطابق،امریکی عوام عراق اور افغانستان کی غلطیوں کو دوبارہ دہرانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔
میگا حامیوں میں بھی تقسیم نظر آتی ہے ، ایک گروہ وہ ہے جو نئی جنگیں نہ چھیڑنے کے وعدے پر یقین رکھتا تھا، جبکہ دوسرا وہ ہے جو ٹرمپ کے فیصلوں پر اندھا اعتماد رکھتا ہے ۔تجزیہ کاروں کی تشویش میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے معاونین کی جانب سے اس بات پر متضاد پیغامات دیئے جا رہے ہیں کہ آیا امریکا تہران میں حکومت کی تبدیلی (ر جیم چینج) چاہتا ہے یا نہیں۔ پورے خطے میں خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ ایران نے اسرائیل اور دیگر ہمسایہ ممالک پر جوابی حملے شروع کر دیئے ہیں۔ اس کے ذریعے وہ خطے میں انتشار پھیلانے اور اسرائیل، امریکا اور ان کے اتحادیوں کے لیے اس جنگ کی قیمت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ایران اب بھی اپنے پراکسی گروپوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف دوبارہ جھڑپیں شروع کر دی ہیں جس کے نتیجے میں یہ جنگ ایک اور ملک تک پھیل گئی ہے ۔اب تک امریکی جانی نقصان نسبتاً کم رہا ہے اور چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید ہلاکتوں کے خدشات کو زیادہ اہمیت نہیں دی، تاہم انہوں نے امریکی زمینی افواج کی تعیناتی کے امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی عوام کو ایران سے متاثرہ ممکنہ حملوں کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے تو ٹرمپ نے ٹائم میگزین کے ایک انٹرویو میں کہا:میرا خیال ہے … جیسا کہ میں نے کہا، کچھ لوگ مر جائیں گے ۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی قومی انٹیلی جنس کے سابق نائب افسر جونتھن پانیکوف کا کہنا ہے :امریکی ہلاکتوں سے بڑھ کر کوئی چیز جنگ کے جلد خاتمے کو تیز نہیں کر سکتی… اور ایران اسی چیز پر انحصار کر رہا ہے ۔بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اندازہ غلط لگایا کہ ایران کے خلاف مہم بھی اسی طرح انجام پائے گی جیسے اس سال کے آغاز میں وینزویلا کے خلاف کارروائی ہوئی تھی۔اس کارروائی میں امریکی سپیشل فورسز نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا تھا، جس کے بعد ٹرمپ کو ملک کے سابق وفادار حکام پر دباؤ ڈال کر وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر پر خاطر خواہ اثر و رسوخ حاصل کرنے کا موقع ملا اور اس کے لیے امریکا کو طویل فوجی مداخلت کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی۔اس کے برعکس ایران ایک کہیں زیادہ مضبوط اور بہتر اسلحہ رکھنے والا حریف ثابت ہوا ہے ، جہاں مذہبی قیادت اور سکیورٹی اداروں کا نظام گہرائی تک جڑا ہوا ہے ۔فی الحال سب سے بڑی تشویش آبنائے ہرمز کے بارے میں ایران کی دھمکی ہے ۔ یہ ایک تنگ سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے ۔
اس صورتحال کے باعث تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت رک گئی ہے ، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں میں امریکی ووٹرز مسلسل بتا رہے ہیں کہ مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کے اخراجات ان کی سب سے بڑی تشویش ہیں۔واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے وابستہ ماہر جوش لپسکی کا کہنا ہے :یہ امریکی معیشت کے لیے ایک ایسا معاشی دباؤ بن سکتا ہے جس کا شاید مکمل طور پر پہلے سے اندازہ نہیں لگایا گیا تھا۔امریکی انتظامیہ کے قریب ایک سابق فوجی عہدیدار کے مطابق جنگ کے معاشی اثرات کی صورتحال نے ٹرمپ کی ٹیم کو کسی حد تک حیران کر دیا ہے ، کیونکہ ایران پر حملے سے پہلے تیل کی منڈیوں کے ماہرین سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی تھی۔ دو وائٹ ہاؤس حکام اور انتظامیہ کے قریب ایک ریپبلکن شخصیت کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے جاری رکھنے کا فیصلہ اس وقت بھی برقرار رکھا جب ان کے بعض سینئر معاونین نے خبردار کیا تھا کہ کشیدگی میں یہ اضافہ قابو سے باہر ہو سکتا ہے ۔امریکا کے بعض روایتی اتحادی بھی اس فیصلے پر حیران رہ گئے ۔ ایک مغربی سفارت کار نے کہا:یہ ایسا فیصلہ سازی کا عمل ہے جس میں گویا صرف ایک ہی شخص شامل ہے ۔اس جنگ کا دورانیہ بھی ایک بڑا نامعلوم عنصر ہے جو اس کے اثرات کی شدت کا تعین کرے گا۔ ایران کے خلاف مہم کے اخراجات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ کارروائی چار یا پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے یا جتنا وقت درکار ہو، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کے بعد کیا حکمتِ عملی ہوگی۔
امریکی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل بین ہوجز، جو عراق اور افغانستان میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور ماضی میں یورپ میں امریکی فوج کے کمانڈر بھی رہ چکے ہیں نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا:سیاسی، تزویراتی اور سفارتی نقطئہ نظر سے لگتا ہے کہ اس منصوبے پر پوری طرح غور نہیں کیا گیا۔دوسری جانب ٹرمپ کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ تیل پیدا کرنے والی خلیجی عرب ریاستوں کو ایران کے بحران کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دی جائے ، کیونکہ یہ ممالک طویل عرصے سے امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرتے آئے ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کے دور میں امریکا میں بڑی سرمایہ کاری کے وعدے بھی کیے ہیں۔اگرچہ خلیجی اتحادی بظاہر اس مہم کی حمایت میں شامل ہو گئے ہیں، خاص طور پر اس کے بعد کہ تہران نے ان پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ، لیکن خطے میں ہر کوئی صدر ٹرمپ کی جنگ کے ساتھ متفق نہیں ہے ۔جمعرات کو ایک کھلے خط میں، یو اے ای کے ارب پتی خلف الحبتور، جو اکثر فلوریڈا کے مارا-لاگو ریزورٹ میں ٹرمپ کے مہمان رہ چکے ہیں، نے ٹرمپ سے پوچھا:’’ آپ کو کس نے یہ حق دیا کہ آپ ہمارے خطے کو ایک میدانِ جنگ میں بدل دیں؟‘‘۔