نیپال میں آدھے بھرے گیس سلنڈر فروخت کئے جانے لگے
اقدام محدود دستیاب گیس کو زیادہ سے زیادہ گھروں تک پہنچانے کیلئے کیاگیا:حکام نیپال کا گیس کیلئے بھارت پر انحصار،جس کی آبنائے ہرمزسے 90فیصدترسیل متاثر
ممبئی (اے ایف پی)نیپال نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث درآمدی سپلائی میں خلل اور ذخیرہ اندوزی کے خدشات کے پیش نظر آدھے بھرے ایل پی جی سلنڈر فروخت کرنا شروع کر دئیے ،حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد محدود دستیاب گیس کو زیادہ سے زیادہ گھروں تک پہنچانا ہے ۔ ہمالیائی ملک نیپال اپنی تقریباً تمام گیس ضروریات کیلئے بھارت پر انحصار کرتا ہے اور بھارت کی تقریباً 90 فیصد ایل پی جی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے ، جو ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں حالیہ کشیدگی کے باعث بحری آمد و رفت متاثر ہوئی ہے ۔سپلائی میں دباؤ کے باعث بھارت نے بھی گھریلو صارفین، ٹرانسپورٹ اور ہسپتالوں جیسے ضروری شعبوں کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نیپال کا کہنا ہے کہ اس کے پاس فی الحال گیس کی مناسب مقدار موجود ہے تاہم دستیاب ذخائر کو زیادہ عرصے تک چلانے کیلئے سلنڈروں میں گیس کی مقدار کم کر دی گئی ہے ۔
نیپال آئل کارپوریشن کے ترجمان منوج کمار تھا کر نے اے ایف پی کو بتایا کہ حکومت نے آدھے بھرے سلنڈر فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ جنگ اور قلت کی خبروں کے باعث صارفین ضرورت سے زیادہ خریداری کر رہے ہیں،اس صورتحال میں وہ لوگ متاثر ہو رہے تھے جن کے گھروں میں صرف ایک ہی سلنڈر موجود تھا۔دوسری جانب نیپال کی بجلی کا زیادہ تر انحصار پہاڑی دریاؤں پر قائم ہائیڈرو پاور ڈیموں پر ہے ، جس کی بدولت وہ کوئلے پر انحصار کرنے والے بھارت کو بھی بجلی برآمد کرتا ہے ۔