وائٹ ہائوس میں رسہ کشی،ٹرمپ کے بدلتے بیانات ،جنگ ختم کرنے کے منصوبے

وائٹ ہائوس میں رسہ کشی،ٹرمپ کے بدلتے بیانات ،جنگ ختم کرنے کے منصوبے

بعض مشیر خبردار کر رہے ہیں کہ ایران پر حملے جاری رہے تو مہنگا پٹرول ٹرمپ کیلئے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے دوسرا گروہ فوجی کارروائی جاری رکھنے کا حامی ،صدر کی متضاد باتوں سے توانائی کی منڈیاں کبھی اوپر کبھی نیچے جھول رہی ہیں مختصر کارروائی کی اصطلاح وائٹ ہاؤس بریفنگ میں سامنے آئی ، جنگ کے آخری موڑ میں آبنائے ہرمز کا اہم کردار ہوسکتا

 واشنگٹن (رائٹرز)وائٹ ہاؤس کے اندر جاری ایک پیچیدہ رسہ کشی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق جنگ کے بارے میں بدلتے ہوئے عوامی بیانات کا سبب بن رہی ہے ۔ صدر کے مشیروں کے درمیان اس بات پر بحث جاری ہے کہ فتح کا اعلان کب اور کس طرح کیا جائے ، جبکہ دوسری جانب یہ تنازع مشرقِ وسطیٰ میں مزید پھیلتا جا رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق بعض سرکاری عہدیدار اور مشیر صدر کو خبردار کر رہے ہیں کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے جاری رہے تو پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے ، جو سیاسی طور پر صدر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔دوسری طرف کچھ مشیر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھی جائے ۔ یہ معلومات صدر کے ایک مشیر اور فیصلوں کے قریب موجود دیگر افراد سے ہونے والی گفتگو کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔ان کے مشاہدات وائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والی فیصلہ سازی کی ایک ایسی جھلک پیش کرتے ہیں جو اس سے پہلے منظرِ عام پر نہیں آئی تھی۔ پردے کے پیچھے جاری یہ سرگرمیاں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ معاملہ کتنا نازک اور اہم بن چکا ہے ۔ وہ گزشتہ سال دوبارہ اقتدار میں آئے تھے اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ غیر دانشمندانہ فوجی مداخلتوں سے گریز کریں گے ۔

لیکن اب تقریباً دو ہفتے گزرنے کے بعد وہ ایک ایسی جنگ کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں جس نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور بین الاقوامی تیل کی تجارت میں بھی خلل پیدا کر دیا ہے ۔صدر تک رسائی حاصل کر کے ان پر اثر انداز ہونے کی کوششیں ان کے دورِ صدارت کا ایک نمایاں پہلو رہی ہیں، مگر اس مرتبہ اس اندرونی کشمکش کے نتائج براہِ راست جنگ اور امن کے فیصلوں سے وابستہ ہیں۔28 فروری کو جنگ شروع کرتے وقت جن وسیع مقاصد کا اعلان کیا گیا تھا، ان کے برعکس صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اس بات پر زور دینا شروع کر دیا ہے کہ وہ اس تنازع کو ایک محدود مہم سمجھتے ہیں جس کے زیادہ تر فوجی اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔تاہم یہ پیغام ابھی تک بہت سے لوگوں کے لیے واضح نہیں ہو سکا، جن میں توانائی کی منڈیاں بھی شامل ہیں، جو صدر کے بیانات کے ردِعمل میں کبھی اوپر اور کبھی نیچے کی طرف تیزی سے جھول رہی ہیں۔بدھ کے روز ریاست کینٹکی میں ایک انتخابی انداز کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا:ہم نے جنگ جیت لی ہے ۔لیکن فوراً ہی بات کا رخ بدلتے ہوئے انہوں نے کہا:ہم جلدی واپس نہیں جانا چاہتے ، ہے نا؟

ہمیں کام مکمل کرنا ہوگا۔معاشی مشیروں اور حکام نے - جن میں محکمۂ خزانہ اور قومی اقتصادی کونسل سے وابستہ عہدیدار بھی شامل ہیں ، صدر کو خبردار کیا ہے کہ اگر تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا اور پٹرول مہنگا ہو گیا تو اس جنگ کے لیے ملک کے اندر پہلے سے کمزور عوامی حمایت مزید تیزی سے ختم ہو سکتی ہے ۔ مشیروں، جن میں چیف آف سٹاف سوزی وائلز اور ان کے نائب جیمز بلیئر شامل ہیں، نے بھی اسی نوعیت کے دلائل دئیے ہیں۔ ان کا زور زیادہ تر پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے سیاسی اثرات پر ہے ، اور وہ صدر ٹرمپ سے درخواست کر رہے ہیں کہ فتح کی تعریف محدود انداز میں کریں اور یہ اشارہ دیں کہ یہ فوجی کارروائی محدود ہے اور تقریباً ختم ہو چکی ہے ۔دوسری جانب کچھ زیادہ سخت گیر آوازیں صدر ٹرمپ پر زور دے رہی ہیں کہ وہ ایران پر فوجی دباؤ جاری رکھیں، جن میں ری پبلکن قانون ساز، جیسے امریکی سینیٹرز لنڈسے گراہم اور ٹام کاٹن، اور میڈیا کمنٹیٹر مارک لیون شامل ہیں، یہ معلومات معاملے سے واقف افراد نے فراہم کیں۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیارولین لیوٹ نے اس بارے میں تبصرہ کر تے ہوئے کہا:\"یہ کہانی صرف افواہوں اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہے ، جو ایسے نامعلوم ذرائع سے آئی ہیں جو صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی گفتگو میں موجود ہی نہیں تھے ۔صدر کو ایک اچھا سامع سمجھا جاتا ہے اور وہ بہت سے لوگوں کی رائے لیتے ہیں، لیکن آخرکار سب جانتے ہیں کہ وہ خود حتمی فیصلہ کرتے ہیں۔

\"صدر ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کبھی کبھار الجھے ہوئے بیانات دئیے ، لیکن اس ہفتے انہوں نے بار بار کہا کہ یہ مہم \"مختصر کارروائی\" ہے ۔ایک قریبی ذریعے کے مطابق، یہ اصطلا ح وائٹ ہاؤس کی بریفنگ کے دوران آئی ، اور صدر نے پہلی بار اسے پیر کو میامی میں ری پبلکن قانون سازوں کے اجتماع میں استعمال کیا۔صدر کو ایک پیغام رسانی کا نوٹ بھی دیا گیا تھا، جو ایک چھوٹا رہنما نوٹ ہوتا ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ عوام کے سامنے کیا کہنا ہے اور کس بات سے بچنا ہے ۔ اس نوٹ میں صدر کو بتایا گیا تھا کہ جنگ مختصر رہے گی اور امریکا لمبی لڑائی میں نہیں پھنسے گا۔امریکا کو جنگ میں لے جانے کے دوران صدر ٹرمپ نے بہت کم وضاحت دی، اور انتظامیہ کے اعلان کردہ جنگی مقاصد میں مختلف جہتیں شامل رہی ہیں، جن میں ایران کے قریب الوقوع حملے کو ناکام بنانا، اس کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا، اور اس کی حکومت کو تبدیل کرنا شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ ایک ناپسندیدہ تنازع سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو وہ مختلف بیانیے سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ایران کی ہرمز کے تنگ راستے اور پڑوسی ممالک میں بحری جہازوں پر مسلسل حملوں کی وجہ سے بے وزن ثابت ہورہے ہیں ۔اعلیٰ سیاسی اور معاشی مشیر، جن کی جنگ سے پہلے ممکنہ اقتصادی بحران کے حوالے سے وارننگز کو زیادہ تر نظر انداز کیا گیا تھا، اب ٹرمپ کی منڈیوں کو مطمئن کرنے اور تیل و گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، کچھ وائٹ ہاؤس مشیر ایک ایسے اختتامی منصوبے پر بات کر رہے ہیں جس میں صدر ٹرمپ یہ اعلان کریں کہ فوجی اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں، اور اس کے بعد پابندیوں، روک تھام، اور مذاکرات کی طرف منتقل ہو جائیں۔ تاہم، ذرائع کے مطابق، تمام مشیر اس طریقہ کار کے ساتھ متفق نہیں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ خود طے کریں گے کہ مہم کب ختم کی جائے ۔ وہ اور ان کے مشیر کہتے ہیں کہ وہ اُس چار سے چھ ہفتے کے دورانیے سے کافی آگے ہیں جس کا آغاز میں اعلان کیا گیا تھا۔ماہرین کے مطابق، ایران کے حکمران اپنی فتح کا دعویٰ کریں گے ، کیونکہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں زندہ بچ گئے ، اور خاص طور پر اس کے بعد کہ انہوں نے اپنی جوابی صلاحیت دکھائی اور اسرائیل، امریکااور اس کے اتحادیوں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت ظاہر کی۔ جنگ کے آخری موڑ کے لیے آبنائے ہرمز کی تنگی انتہائی اہم ہوگی۔ دنیا کے تیل کی تقریباً ایک پانچواں حصہ، جو عام طور پر اس تنگ سمندری گزرگاہ سے گزرتا ہے ، تقریباً مکمل طور پر رک گیا ہے ۔ ایران نے حالیہ دنوں میں عراقی پانیوں میں ٹینکرز اور ہرمز کے قریب دیگر بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں۔اگر ایران کا اس گزرگاہ پر کنٹرول امریکی پٹرول کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھا دے ، تو اس سے صدر ٹرمپ پر جنگ ختم کرنے کا سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے ۔

نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ان کی جماعت، ری پبلکن پارٹی، قلیل اکثریتی نشستیں بچانے کی کوشش کر رہی ہے ۔اب تک، ان کے \"میک امریکا گریٹ اگین\" تحریک کے زیادہ تر حمایتی ایران کے تنازع میں صدر کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، حالانکہ کچھ حمایتی فوجی مداخلتوں کے خلاف ہیں۔صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اس بات کو آگے بڑھانے سے احتراز کیا ہے کہ یہ جنگ تہران کی حکومت کو گرانے کے لیے ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں