ایران کیخلاف جنگ ، پینٹاگون میڈیا سے معلومات چھپانے لگا

ایران کیخلاف جنگ ، پینٹاگون میڈیا سے معلومات چھپانے لگا

عراق ،افغانستان کے برعکس امریکی فوج نے صحافیوں کو مکمل بریفنگز فراہم نہیں کیں پہلی بار میڈیا کو فوجی دستوں کے ساتھ میدانِ جنگ میں جانے کا موقع نہیں دیا گیا موجودہ تنازع میں کئی اہم سوالات کا ابھی تک جواب نہیں دیا گیا :سابق امریکی فوجی

 واشنگٹن (اے ایف پی)ایران کے خلاف جنگ کے دوران میڈیا کے ساتھ پینٹاگون کی بات چیت زیادہ تر سخت بیانات تک محدود رہی ہے ، جبکہ آپریشنل تفصیلات بہت  کم فراہم کی گئی ہیں، اور یہ انداز اُن مرکزی میڈیا اداروں کے ساتھ کسی حد تک مخالفانہ بھی رہا ہے جو اس تنازع کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں۔ماضی کی جنگوں، جیسے عراق اور افغانستان میں، صحافیوں کو تفصیلی اور اکثر روزانہ کی بنیاد پر بریفنگز تک رسائی حاصل ہوتی تھی اور انہیں فوجی دستوں کے ساتھ میدانِ جنگ میں جانے (ایمبیڈ ہونے ) کا موقع بھی دیا جاتا تھا۔ تاہم ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران امریکی فوج نے معلومات فراہم کرنے کے معاملے میں بالکل مختلف طرزِ عمل اختیار کیا ہے ۔اسٹیو وارن، جو امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل ہیں اور عوامی امور (پبلک افیئرز) میں 20 سال کا تجربہ رکھتے ہیں، نے کہا پینٹاگون پہلے کے مقابلے میں کم معلومات، کم وقفوں سے فراہم کر رہا ہے ، اور جو معلومات دی جا رہی ہیں وہ بھی پہلے کے مقابلے میں کم مفصل ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ عراق، افغانستان اور دولتِ اسلامیہ (داعش)کے خلاف جنگ کے دوران امریکی فوج باقاعدگی سے بریفنگز کا انعقاد کرتی تھی اور اس کے پاس ایک مخصوص مواصلاتی سیل موجود تھا جسے اس اصول کے تحت کام کرنے کا اختیار حاصل تھا کہ زیادہ سے زیادہ معلومات کم سے کم تاخیر کے ساتھ فراہم کی جائیں۔ موجودہ تنازعے کے دوران ہمیشہ ایسا نہیں رہا، کیونکہ کئی اہم سوالات اب تک بے جواب ہیں۔ ان میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ آیا ایران کے ایک پرائمری سکول پر ہونے والے مہلک حملے کا ذمہ دار امریکا تھا یا نہیں، اور جنگ کے بعد ایران کے بارے میں واشنگٹن کے منصوبے کیا ہوں گے ۔پینٹاگون کی ترجمان کنگزلے ولسن نے تبصرے کی درخواست کے جواب میں کہا کہ میڈیا کو پینٹاگون کی جانب سے بے حد معلومات فراہم کی گئی ہیں، چاہے وہ اسے تسلیم کرنا چاہیں یا نہیں۔میڈیا کے ساتھ پینٹاگون کا سخت رویہ صرف موجودہ جنگ تک محدود نہیں بلکہ اس کی ابتدا اُس وقت ہوئی جب ٹرمپ گزشتہ سال دوسری مرتبہ اقتدار میں آئے۔

خبر رساں اداروں کو بتایا گیا کہ پینٹاگون تک رسائی برقرار رکھنے کے لیے انہیں ایک زیادہ سخت میڈیا پالیسی پر دستخط کرنا ہوں گے ۔ تقریباً تمام اداروں نے اس سے انکار کر دیا اور انہیں اپنے پینٹاگون کے شناختی کارڈ واپس کرنا پڑے ۔بعد میں مزید پابندیاں بھی عائد کی گئیں، جن میں بریفنگز کے دوران خبروں کے فوٹوگرافروں کی موجودگی محدود کرنا بھی شامل ہے ۔ اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ وزیرِ دفاع کے عملے کو خبروں میں آنے والی تصاویر میں ان کی شکل و صورت کے انداز پر اعتراض تھا۔امریکی ریاست جارجیا کی ایک جامعہ میں ابلاغیات کے پروفیسر راجر اسٹال نے کہا ایران کے معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ مکمل طور پر غیر شفاف رہی ہے ۔ان کے بقول یہ پہلا بڑا فوجی آپریشن ہے جس میں حکومت نے کانگریس اور امریکی عوام کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کی بھی زحمت نہیں کی، اور حملوں کے بعد بھی کسی واضح اور مربوط جواز کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں