توانائی کی عالمی منڈیاں کھولنے کی چابی ایران کے پاس

توانائی کی عالمی منڈیاں کھولنے کی چابی ایران کے پاس

امریکا جنگ خاتمے کا اعلان کرسکتا مگر تیل وگیس کی سپلائی کا فیصلہ ایران کریگا جہاز وں پر حملے روکنے کے لیے امریکا ،اسرا ئیل کو ایران کی شرائط ماننی ہونگی بحیرہ احمر میں سعودی بندرگاہ ینبوع واحد متبادل راستہ مگر حوثیوں سے خطرہ

دبئی/بغداد(رائٹرز )جب سعودی آرامکو نے اس ہفتے اپنے تیل خریداروں کو ایک خط میں بتایا کہ اپریل کی برآمدات کیلئے اسے کس بندرگاہ کا استعمال کرنا ہے ، اس کا  کوئی واضح اندازہ نہیں، تو اس نے ایک نئی حقیقت واضح کر دی کہ عالمی توانائی کی منڈی کھولنے کی کلید امریکا کے بجائے ایران کے ہاتھ میں ہے ۔اس خط میں جو دنیا بھر کے سعودی تیل خریداروں کو بھیجا گیا، بتایا گیا کہ انہیں تیل بحیرہ احمر سے مل سکتا ہے ، لیکن ممکن ہے کہ وہ اسے خلیج سے بھی وصول کریں۔ایک عام سعودی تیل خریدار نے اس خط پر کہا کہ مجھے اپنا تیل لینے کیلئے ایران کو ہی فون کر لینا چاہیے کہ یہ جنگ کب ختم ہوگی۔ یہ تبصرہ مشرق وسطٰی کے اندر اور باہر اس پختہ یقین کو ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ امریکا اور اسرائیل کسی بھی وقت جنگ کے اختتام کا اعلان کر سکتے ہیں، تاہم یہ ایران ہی طے کرے گا کہ تیل اور گیس کی سپلائی میں خلل کب تک جاری رہے گا۔ٹرمپ نے بار بار کہا ہے کہ امریکا تیزی سے بڑھتی جنگ میں جیت کے قریب ہے ، تاہم ان کے دئیے گئے وقت کے تخمینے چند دنوں سے لے کر چند ہفتوں کے درمیان ہیں۔ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ڈرونز اور میزائل فائر کیے

، جس سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اس کا اثر دنیا بھر کی ریفائنریز، پیٹرو کیمیکل ، بجلی گھر اور توانائی پر مبنی صنعتوں پر پڑا ہے ۔مشرق وسطٰی کی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام اور ان کے مغربی ہم منصبوں نے خبردار کیا ہے کہ صرف امریکی ضمانتیں کافی نہیں ہوں گی کہ جہاز رانی دوبارہ شروع ہو جائے اور پیداوار معمول پر آ جائے ، چاہے لڑائی فوراً ختم ہی کیوں نہ ہو جائے ۔تہران کی کم لاگت ڈرونز بنانے اور استعمال کرنے کی صلاحیت کا مطلب ہے کہ ایران کے پاس جہاز رانی میں خلل ڈالنے یا اسے معطل کرنے کی طاقت ہے ، جو حملہ آوروں کے کسی ایسے اعلان سے کہیں زیادہ دیر تک جاری رہ سکتی ہے کہ جنگی کارروائیاں ختم ہو گئی ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر جہاز رانی بحال کرنے کیلئے فوجی سکواڈ فراہم کرے گا اور اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کیلئے جنگی جہاز بھیجیں، تاہم ایک سینئر خلیجی توانائی کے عہدیدار نے کہا کہ بحری سکواڈز جہاز رانی کو معمول پر نہیں لا سکیں گے

، جب تک امریکا اور اسرائیل تہران کے ساتھ ایسی شرائط پر اتفاق نہ کریں جس میں ایران جہاز رانی کے خلاف حملوں کو روکنے کا وعدہ کرے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ٹینکرز تب تک اپنی جگہ پر ہی رہیں گے جب تک ایران محفوظ گزرگاہ کی ضمانت نہیں دیتا۔ تجزیہ کار نیل کوئلیم نے کہا اگر امریکا اور اسرائیل ایسی شرائط کے تحت جیت کا اعلان کریں جسے ایران قبول نہ کرے ، تو تہران یہ ظاہر کرنا چاہے گا کہ وہ شکست خوردہ نہیں ہے ، پھر وہ بارودی سرنگوں اور ڈرونز کے ذریعے مزید خلل ڈالے گا۔ ہیلیما کرافٹ، جو سابقہ سی آئی اے تجزیہ کار ہیں، نے کہا کہ ایران یہ پیغام دے رہا ہے کہ اس تنازع میں کوئی محفوظ بندرگاہ نہیں ہے اور واشنگٹن بڑھتے تصادم کے اصولوں کو کنٹرول نہیں کرے گا۔ انہوں نے یمن، عراق اور دیگر جگہوں سے ممکنہ پراکسی حملوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔یمن میں ایران کے حامی حوثی باغی گروپ اپنی موجودہ حکمتِ عملی اور صلاحیت کی وجہ سے توانائی اور جہاز رانی کی صنعت کیلئے خطرہ بڑھا سکتے ہیں، خصوصاً اگر وہ سعودی عرب کی بحیرہ احمر میں واقع بندرگاہ ینبوع کو نشانہ بنائیں ، جو ملکی طور پر اب تیل برآمد کرنے کا واحد متبادل راستہ ہے ۔ایرانی حملوں کی وجہ سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل میں ریفائنریز بند ہو گئی ہیں، جس سے تیل اور گیس کی قیمتیں 60 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ماہرین جن میں مورگن سٹینلے کے تجزیہ کار بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ تنازع کا فوری حل بھی مارکیٹ میں کئی ہفتوں کیلئے خلل پیدا کرے گا۔شپنگ کے راستے بند ہونے کی وجہ سے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اپنی پیداوار میں کمی کرنا پڑی، کیونکہ وہ اپنے بیرلز کو برآمد نہیں کر پا رہے ۔ ماہرین کے تخمینے کے مطابق مشرق وسطٰی میں تیل کی مجموعی پیداوار میں کمی اب 7 سے 10 ملین بیرل فی دن تک پہنچ گئی ہے ، جو عالمی طلب کا 7 سے 10 فیصد بنتی ہے ۔قطر نے اپنی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار مکمل طور پر روک دی ہے ، جس سے دنیا کی ایل این جی سپلائی میں 20 فیصد کمی آئی ہے ، اور صارفین کو بتایا گیا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر مئی تک مال وصول نہیں کر پائیں گے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں