ٹرمپ ٹیرف اور بند سرحدیں، جنوبی ایشیائی تجارت تعطل کا شکار
بھارت میں پاکستانی شرارے اور غرارے مہنگائی کے باوجود دلہنوں میں مقبول واہگہ سرحد کی بندش سے پاکستانی مصنوعات کی بھارت میں قیمتیں بڑھ گئیں اگر براہ راست تجارت ممکن ہوتی تو قیمتیں کم اور گاہک کو فائدہ ہوتا:خاتون تاجر سیاسی عدم اعتماد و غیر یقینی پالیسیوں سے جنوبی ایشیا کی تجارت محدود :پروفیسر سدرہ بھارت اقتصادی طاقت بننا چاہتا ہے تو پڑوسیوں کو شراکت دار بنانا ہو گا:بھارتی صحافی
حیدر آباد (دنیا مانیٹرنگ)جنوبی بھارت کے شہر حیدر آباد کے پوش علاقے بنجارہ ہلز میں مریم کا بوتیک اپنی نوعیت کا منفرد کاروبار ہے ،جہاں شلوار قمیض، لہنگے اور دیگر روایتی ملبوسات فروخت ہوتے ہیں مگر اس دکان کی اصل پہچان پاکستانی ملبوسات ہیں۔پاکستانی سوٹ، شرارے اور غرارے خاص طور پر ان خاندانوں میں بے حد مقبول ہیں جہاں شادی کی تیاریاں کی جا رہی ہوں۔ مریم کہتی ہیں خواتین خاص طور پر دلہنیں، پاکستانی شراروں، اور غراروں کے لیے بڑی رقم ادا کرنے کو تیار ہوتی ہیں۔مریم ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ ملبوسات براہ راست واہگہ اٹاری کی پاک بھارت سرحد کے ذریعے بھارت آتے تو لاگت کہیں کم ہوتی، مگر اب یہ دبئی کے راستے درآمد کیے جاتے ہیں۔
اگر براہ راست تجارت ممکن ہوتی تو قیمت بھی کم ہوتی اور فائدہ بھی گاہک تک منتقل کیا جا سکتا تھا۔بھارتی ٹی وی ڈراموں اور تفریحی شوز نے پاکستانی فیشن کی مانگ میں اضافہ کیا ہے ، لیکن کسی واضح اور مستقل تجارتی پالیسی کے فقدان نے اس طلب کو ایک مہنگے اور پیچیدہ کاروبار میں بدل دیا ہے ۔ ٹرمپ کے عائد کردہ امپورٹ ٹیرفس نے بھی پوری منڈی کو غیر یقینی بنا دیا ہے ۔امریکا کی نئی ٹیرف پالیسیوں نے جنوبی ایشیائی برآمدکنندگان، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور ہینڈی کرافٹس کے شعبوں کو شدید متاثر کیا ہے ۔ کم ہوتے ہوئے بزنس آرڈرز، بڑھتی ہوئی لاگت اور غیر یقینی طلب نے پورے کاروبار کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔پاکستان کے سابق سفارت کار جلیل عباس جیلانی بتاتے ہیں کہ 2014 میں بھارت اور پاکستان ایک تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے ۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تجارتی پہل اس وقت اچانک رک گئی تھی، جب 2014 کے شروع میں مودی کے ایک قریبی نمائندے نے ان کے دفتر کا دورہ کیا تھا۔ تب بھارت میں عام انتخابات ہونے والے تھے اور مودی اپوزیشن اتحاد یعنی این ڈی اے کے وزارت عظمیٰ کے لیے امیدوار تھے ۔جیلانی کے مطابق اس نمائندے نے دلیل دی تھی کہ اگر اس وقت پاکستان نے معاہدے پر دستخط کیے تو اسے بھارت کے انتخابات میں پاکستان کی جانب سے کانگریس پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش سمجھا جائے گا۔ ورلڈ بینک کے مطابق خطے کی تجارت میں سرحدوں پر کارروائی کی تکمیل کے لیے وقت کا دورانیہ مشرقی ایشیا کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ہے ۔ اس کے علاوہ پیچیدہ ضوابط اور منظوری کے طویل مراحل بھی اخراجات اور خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس کے ڈائریکٹر جنرل جیوتی وِج کہتے ہیں ضوابط کی پیچیدگی اور پالیسیوں کی غیر یقینی فضا مل کر کاروبار کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
پلوامہ میں حملے اور آرٹیکل 370 کی منسو خی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت تقریباً معطل ہو گئی۔ بھارت نے پاکستان سے درآمدات پر 200 فیصد ڈیوٹی عائد کی جبکہ پاکستان نے تجارت روک دی جس کے نتیجے میں جو تجارتی سامان پہلے چند گھنٹوں میں سرحد پار پہنچتا تھا، اب اسے دبئی یا کولمبو کے ذریعے طویل اور مہنگے راستوں سے گزارنا پڑتا ہے ۔ 2018 میں دو طرفہ تجارت 2.41 ارب ڈالر تھی، جو اب نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے ۔سینئر صحافی رنجیت کمار کے مطابق اگر بھارت واقعی ایک عالمی اقتصادی طاقت بننا چاہتا ہے تو اسے اپنے پڑوسیوں کو سکیورٹی کے بجائے معاشی شراکت داری کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔کراچی میں بحریہ یونیورسٹی کی پروفیسر سدرہ احمد کہتی ہیں علاقائی سیاسی استحکام براہ راست معاشی مفادات سے جڑا ہوا ہے ۔ اگر خطے کے ممالک اسے نظر انداز کریں گے ، تو عدم استحکام بڑھتا ہی جائے گا۔جنوبی ایشیا کا مسئلہ وسائل یا منڈیوں کی کمی نہیں، بلکہ اعتماد کی کمی اور پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان ہیں۔ماہرین کے بقول جنوبی ایشیائی ممالک نے اگر اپنی تجارت کو سیاسی اتار چڑھاؤ سے الگ نہ کیا اور کوئی واضح اور مسلسل قابل عمل ضوابط طے نہ کیے ، تو یہ خطہ عالمی معیشت میں پیچھے رہ جائے گا۔