ٹرمپ کے بیانات،خام تیل قیمتیں آسمان پر،سٹاک ماکیٹس میں شدیدمندی
ویسٹ ٹیکساس تیل 110ڈالر میں بکا،پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 3453پوائنٹس کمی بحرانروزگار غذائی تحفظ پر منفی اثر ڈال سکتا ،سرمایہ کار محتاط ہوگئے :ایم ڈی ورلڈ بینک
لندن ،واشنگٹن (اے ایف پی،مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات سے جہاں جنگ بندی کی کوششوں کو دھچکا لگا وہیں خام تیل کی قیمتیں آسمان پرپہنچ گئیں اور عالمی سٹاک مارکیٹیں منہ کے بل گرگئیں ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز عالمی توانائی اور مالیاتی مارکیٹس میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید سخت حملوں کی دھمکی دی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے کوئی عملی حل پیش نہ کیا، اس کے فوری اثرات تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور سٹاک مارکیٹوں میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوئے ۔ برینٹ نارتھ سی خام تیل 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 108 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا، بعد میں 110.47 ڈالر تک پہنچ گیا۔فرینکفرٹ سٹاک مارکیٹ میں دو فیصد سے زائد کمی، پیرس میں ایک فیصد کمی اور لندن میں صرف 0.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔ایشیائی سٹاک مارکیٹس بھی دباؤ کا شکاررہیں ، ٹوکیو میں دو فیصد کمی ہوئی ، ہانگ کانگ اور شنگھائی بھی منفی زون میں بند ہوئے ۔وال سٹریٹ پرایس اینڈ پی 500 انڈیکس تقریبا 7 فیصد کم ہوا۔پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کے ایس ای 100 انڈیکس 3453 پوائنٹس کی کمی کے بعد 1,52,058 پوائنٹس پر بند ہوا۔کے ایس ای 30 انڈیکس 1180.47 پوائنٹس کم ہو کر 45,975.85 پوائنٹس پر بند ہوا۔مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1.9 فیصد کم ہو کر 60.5 ارب ڈالر ہو گئی۔دبئی انڈیکس میں تقریبا 16 فیصد کمی ہوئی جبکہ ابوظہبی انڈیکس میں 9 فیصد کمی دیکھی گئی ۔ورلڈ بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر پاسکل ڈونوہو نے کہا کہ یہ بحران مہنگائی، روزگار اور غذائی تحفظ پر منفی اثر ڈال سکتا ہے ۔سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے مارکیٹس شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔