خیموں کا شہر آباد،لبیک کی صدائیں،آج وقوف عرفات اور خطبہ حج
رات کو عازمین نے منیٰ میں قیام کیا،آج میدان عرفات میں خطبہ حج سننے کے بعد ظہر، نماز عصر ملا کر ادا کرینگے ، پھرمزدلفہ پہنچیں گے کل صبح حجاج کرام بڑے شیطان کو کنکر ماریں گے ، قربانی کے بعد احرام سے باہر آ جائیں گے ، مکہ مکرمہ ، اطراف میں شدید گرمی برقرار
مکہ مکرمہ (دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک )حج 1447 ہجری کے مناسک کا آغاز ، منیٰ میں خیموں کا شہر آباد ہو چکا اوروہاں ’’لبیک اللھم لبیک‘‘کی صدائیں گونج اٹھیں، پاکستان سمیت دنیا بھر سے آئے تقریبا 20 لاکھ عازمین نے رات خیموں کے شہر میں گزاری ۔ گزشتہ روز عازمین قافلوں کی صورت میں دن بھر مکہ مکرمہ سے منیٰ پہنچتے رہے ،منیٰ میں گرمی کی شدت سے عازمین کو محفوظ رکھنے کیلئے سکیورٹی اہلکار ان پر پانی کا چھڑکاؤ بھی کر تے رہے ،رات کو تمام عازمین نے منیٰ میں قیام کیا، آج 9 ذی الحج کو نماز فجر ادائیگی کے بعد عازمین حج کے سب سے اہم رکن وقوف عرفہ کی ادائیگی کیلئے میدان عرفات پہنچیں گے جہاں وہ خطبہ حج سنیں گے اور پھر نماز ظہر اور عصر ملا کر ادا کرینگے ، بعد میں حجاج مزدلفہ پہنچیں گے ، مغرب اور عشا کی نماز ایک ساتھ ادا کرینگے اور رمی کیلئے 70 کنکریاں چنیں گے ۔کل 10 ذوالحجہ کی صبح وقوف مزدلفہ کے بعد حجاج بڑے شیطان کی رمی (کنکر ماریں گے )کرینگے ۔ قربانی کے بعد حجاج حلق یا قصر کرتے ہی احرام سے باہر آ جائیں گے ، 10 تا 12 ذو الحجہ کے درمیان کسی بھی وقت حج کا تیسرا فرض طواف زیارت اور واجب سعی کرینگے ۔سعودی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ حج کے دنوں میں مکہ مکرمہ اور اطراف میں شدید گرمی کی لہر برقرار رہنے اوردرجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا نے کا امکان ہے ، گرد آلود ہوا چلنے کا بھی امکان ہے ۔واضح رہے وادی منیٰ، مکہ مکرمہ اور میدان مزدلفہ کے درمیان ہے جبکہ مسجد الحرام سے شمال، مشرق کی جانب7کلو میٹر دوری پر ہے ،ہر برس کی طرح امسال بھی منیٰ میں گرمی کی شدت کم کرنے کیلئے شاہراہوں پر پھوار برسانے والے پولز اور پنکھے بھی فعال کئے گئے جبکہ سفید خیموں پر مشتمل اس بستی میں بجلی، ٹھنڈک،سایہ دار جگہوں، سکیورٹی، طبی سہولیات، خوراک اور آمدورفت کے منظم نظام بھی مسلسل کام کر رہے ہیں ، عازمین کی سہولت کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے بھی مدد لی جا رہی ہے ۔